صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 669 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 669

صحیح البخاري - جلد ) ۶۶۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اللَّحْيَةِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطُشُ إِنَّا تھے اور نہ پکڑ کر اکٹھا کیا ہوا تھا۔مگر کچھ ایسا ہی تھا۔اور كَذَلِكَ وَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ ایسے وقت میں لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوْا هَكَذَا۔طرفه ۷۲۳۹ ( یہ ) نماز پڑھا کریں۔۔تشریح: عشاء سے پہلے سونے کی اجازت صرف اس شخص کے لئے ہے ( لِمَنْ غُلِبُ ) جو نیند سے مغلوب ہو جائے۔دو واقعات جو باب نمبر ۲۴ میں پیش کئے گئے ہیں۔ان سے ظاہر ہے کہ بوجہ دیر ہو جانے کے صحابہ نیند سے بے قرار تھے۔بار بار سونے اور جاگنے کے یہی معنی ہیں کہ وہ نیند سے کشمکش کر رہے تھے۔یہ حالت استثنائی ہے۔عنوانِ باب کے تحت حضرت ابن عمر کے پرواہ نہ کرنے کا ذکر کرنے سے یہی سمجھانا مراد ہے کہ وہ بھی نیند کے غلبہ کی وجہ سے سونے کے لئے مجبور ہو جاتے تھے۔ایسی حالت میں سونے کا ہی حکم ہے۔بشرطیکہ اس امر کی احتیاط کی جائے کہ وقت نہ نکل جائے۔كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً : روایت نمبر اے ۵ میں حضرت ابن عباس کے قول کا ایک حوالہ دیا گیا ہے۔اس واقعہ کے راوی حضرت عائشہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی ہیں۔(روایت نمبر ۵۶۷،۵۶۶) ان کی روایتوں میں اُس حصہ کا ذکر نہیں جو حضرت ابن عباس نے بیان کیا ہے۔یعنی یہ کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔حضرت انس سے بھی یہی واقعہ مروی ہے۔( روایت نمبر ۵۷۲) اس میں بھی یہ الفاظ نہیں۔حالانکہ وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ مجھے ایسا یاد ہے: كَا نِي أَنْظُرُ إِلَى وَبِیصِ خَاتَمِهِ لَيْلَتَئِذٍ گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک جو اُس رات تھی اب بھی دیکھ رہا ہوں۔اس تاخیر کا سبب باب نمبر ۲۲ کے ذیل میں روایت نمبر ۵۶۷ کے الفاظ وَلَهُ بَعْضُ الشُّغُلِ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے۔كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً کے الفاظ سے یہ سمجھ لینا کہ آپ اپنی بیبیوں کی صحبت میں مشغول رہے، نہایت دور کا خیال ہے۔سر سے پانی ٹپکنے کا ذکر اس روایت کی دوسری سندوں میں نہیں ہے۔حضرت ابن عباس اس وقت خورد سال تھے ہو سکتا ہے انہیں غلط فہمی ہوئی ہو۔سر پر پانی ڈالنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔دوسری روایتوں میں اس بات کی صراحت ہے کہ آپ اس وقت فوج کی تیاری میں مشغول تھے (دیکھئے تشریح باب ۲۲) اور کیا دیر تک جاگنے اور کام کاج کی کوفت و پریشانی دور کرنے کے لئے ہم اپنے سر پر پانی ڈالا نہیں کرتے ؟ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات تو الگ رہی ، ہم انصافا اپنے نفس پر ہی قیاس کریں کہ پاس ہی مسجد میں مرد، عورتیں اور نیچے نماز کی انتظار میں اونگھ رہے ہوں تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنی بیبیوں میں بیٹھا ر ہے۔یہاں تک کہ آدھی رات ہو جائے اور اُسے ان عورتوں اور بچوں کا خیال تک نہ آئے خصوصا جبکہ ایسا شخص ایک بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو اور مصروفیت جنگی نوعیت کی ہو؟ آپ کی نمازوں کی عابدانہ اور عاشقانہ کیفیت کی تھوڑی سی جھلک کتاب الاذان باب ۴۳٫۳۹ ۴۴۰ کی روایتوں میں دیکھی جائے اور پھر اپنے دل سے پوچھا جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جیسے جلیل القدر انسان سے متعلق ایک روایت کے بعض الفاظ کی بناء پر بے موقع خیال گھڑ نا کہاں تک انصاف ہے۔حالانکہ محض ان الفاظ سے بھی اس خیال کی کوئی تائید نہیں ہوتی۔