صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 668
صحيح البخاري - جلد ا ۲۶۸ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة وَقْتِهَا وَكَانَ يَرْقُدُ قَبْلَهَا قَالَ ابْنُ ہو جائے گی کہ عشاء کا وقت جاتا رہے گا اور کبھی وہ جُرَيْجٍ قُلْتُ لِعَطَاءِ عشاء سے پہلے بھی سو جاتے تھے۔ ابن جریج کہتے تھے : میں نے عطاء کو یہ بتایا۔ ٥٧١: وَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ۵۷۱ تو انہوں نے کہا: میں نے بھی حضرت ابن يَقُوْلُ أَعْتَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عباس سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وسلم نے ایک رات عشاء میں اتنی دیر کر دی کہ لوگ سو وَاسْتَيْقَظُوْا وَرَقَدُوْا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ گئے اور جاگے اور سو گئے اور جاگے ۔ تب حضرت عمر عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلَاةَ قَالَ بن خطاب اُٹھے اور کہا: نماز پڑھائیں۔ عطاء کہتے عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ تھے کہ حضرت ابن عباس نے کہا: تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ گویا میں آپ کو اب بھی دیکھ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ رہا ہوں ۔ آپؐ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا ہوا تھا اور آپؐ نے فرمایا رَأْسِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي کہ اگر یہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوْهَا هَكَذَا فَاسْتَتْبَتُ دوں گا تو میں ضرور ان کو حکم دیتا کہ وہ اس کو ایسے ہی عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ وقت میں پڑھا کریں۔ میں ( ابن جریج) نے عطاء عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ سے پختہ طور پر معلوم کرنے کے لئے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ کیسے رکھا ہوا تھا جیسا کہ حضرت ابن عباس نے ان کو بتایا تو عطاء نے اپنی انگلیاں تھوڑی سی کھولیں۔ پھر انہوں نے اپنی انگلیوں أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ کے سروں کو سر کے سامنے کی طرف رکھا۔ پھر انہیں سر ضَمَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ پر پھیرتے ہوئے اس طرح ملا دیا کہ ان کا انگوٹھا کان حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا کے اس کنارے کو چھوتا تھا جو ہوتا تھا اجو چہرہ سے ملا ہوا کنپٹی اور يَلِي الْوَجْهَ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ داڑھی کے سرے پر ہے۔ (بالوں کو ) نہ نچوڑ رہے ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِّنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ