صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 659 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 659

صحيح البخاري - جلد ا ۶۵۹ ۹ - کتاب مواقيت الصلوة جن نمازوں کے اوقات ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ ہیں وہی جمع کی جاسکتی ہیں۔ اس لئے امام موصوف نے یہ مسئلہ یہاں بھی دہرایا ہے۔ روایت نمبر ۵۵۹ سے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز مغرب اول وقت پڑھا کرتے تھے۔ امام احمد ابن حنبل نے اپنی مسند میں علی بن بلال کی ایک روایت نقل کی ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگ مغرب کی نماز پڑھ کر گھروں کو لوٹتے اور راستے میں تیراندازی کرتے جاتے اور جہاں اُن کے تیر پڑتے دیکھ سکتے تھے۔ ( مسند احمد بن حنبل اول مسند المدنيين۔ حديث رجال من الانصار ۔ جلد ۴ صفحه ۳۶) امام بخاری نے یہاں بھی ایک واقعہ سے استدلال کیا ہے اور نمبر ۵۶۰ میں ایک ایسی روایت پیش کی ہے جس میں ضمنا ایک اختلافی صورت پیش کر کے مغرب کی تعین کی ہے ۔ ۷۴ ھ میں حجاج بن یوسف نے مدینہ پر حملہ کیا اور حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید ہوئے۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو مدینہ کا امیر مقرر کیا۔ وہ نمازوں میں دیر کرتا تھا۔ جس سے لوگوں کو مسئلہ دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ (فتح البارى الجزء الثانی صفحہ ۵۶) حضرت جابر بن عبداللہ نے وہ اختلاف جو اوقات نماز کی نسبت تھا حل کیا ہے: وَالْمُغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ - روایت نمبر ۵۶۱ سے إِذَا وَجَبَتْ کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے: إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ۔ یعنی جب سورج چھپ جاتا۔ باب ۱۹: مَنْ كَرِهَ أَنْ يُقَالَ لِلْمَغْرِبِ الْعِشَاءُ جس نے نا پسند کیا کہ مغرب کو عشاء کہا جائے ٥٦٣: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ هُوَ عَبْدُ ۵۶۳ : ابو معمر نے جو کہ عبداللہ بن عمرو ہیں ہم سے اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہمیں بتایا کہ حسین سے الْوَارِثِ عَنِ الْحُسَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن بریدہ نے ہم عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ سے بیان کیا، کہا: حضرت عبداللہ مزنی نے مجھ سے اللَّهِ الْمُزَنِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل بادیہ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى تمہاری مغرب کی نماز کے نام میں تمہیں مغلوب نہ اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْمَغْرِبِ قَالَ وَتَقُوْلُ کر دیں ۔ (حضرت عبداللہ مزنی نے) کہا: اہل بادیہ الْأَعْرَابُ هِيَ الْعِشَاءُ۔ کہتے ہیں مغرب عشاء ہی ہے۔ کو دوسری شئے کا نام دینے سے التباس واقع ہو جاتا ہے۔ جس سے احتمال ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک شئے بوجہ وحدت تسمیہ معدوم ہو جائے ۔ مغرب و عشاء کی ہی مثال لے لیں ۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ہیں اگ صلی وسلم کی طرف سے تنبیہ نہ ہوتی تو اہل بادیہ مغرب کا نام عشاء ہی رکھتے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ مغرب کا لفظ بالکل نظر انداز کر دیا جاتا اور اس