صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 658
صحيح البخاري - جلد ا ۶۵۸ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اس وقت وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ میں پڑھتے کہ سورج ابھی روشن ہوتا اور مغرب کی نماز وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا وَّ أَحْيَانًا إِذَا رَآهُمُ وقت پڑھتے جب وہ غروب ہو جاتا اور عشاء عشاء کبھی اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَؤُوا کسی وقت اور بھی کسی وقت ۔ جب اُن کو دیکھتے کہ وہ أَخَّرَ وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ كَانَ النَّبِيُّ اکٹھے ہو گئے ہیں تو آپ جلدی کرتے اور جب اُن کو دیکھتے کہ اُنہوں نے دیر کی ہے تو آپؐ تاخیر فرماتے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلَّيْهَا بِغَلَسٍ۔ اور صبح کی نماز وہ (لوگ) یا کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم طرفه ٥٦٥۔ ایسے وقت میں پڑھتے کہ ابھی اندھیرا ہوتا۔ ٥٦١ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۶۱ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ ابن ابی عبید نے ہمیں بتایا: حضرت سلمہ سے روایت سَلَمَةَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى ہے کہ اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ ساتھ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج بِالْحِجَابِ۔ پس پردہ ہو جاتا۔ ٥٦٢: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۶۲ آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ میں نے جابر بن زید سے سنا کہ حضرت ابن عباس اریم قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ سَبْعًا جَمِيعًا وَثَمَانِيَا جَمِيْعًا ۔ نے سات رکعتیں اکٹھی اور آٹھ رکعتیں اکٹھی اطرافه: ٥٤٣، ١١٧٤ تشریح: پڑھیں ۔ عنوانِ باب میں عطاء رحمۃ اللہ اللہ علیہ کا حوالہ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے دیا گیا ہے کہ مغرب کا وقت ظہر اور عصر کی طرح ان اوقات میں سے ہے جو دوسری نماز کے وقت تک ممتد ہے۔ صبح کی طرح نہیں رسے ۔ جو ظہر سے بہت فاصلہ رکھتا۔ ہت فاصلہ رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اس باب کی روایتوں کو حضرت ابن عباس کی اس روایت پر ختم کیا ہے۔ جس میں سات اور آٹھ رکعتوں کے جمع کرنے کا ذکر ہے۔ ( فتح الباری الجزء الثانی صفحہ ۵۵) اریم