صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 660 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 660

صحيح البخاري - جلد ا ٦٦٠ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ا پرو ر دلالت کرتا ہے اور کے نظر انداز ہونے سے وہ مفہوم بھی ذہنوں سے غائب ہو جاتا جس پر لفظ مغرب دلالت کرتا ہے۔ یعنی ڈوبنے کا وقت ۔ مغرب کے لفظ نے ذہنوں میں یہ بات اب تک قائم رکھی ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ مگر ر صرف عشاء کا لفظ مغرب کا یہ مفہوم ذہنوں میں قائم نہ رکھتا۔ کیونکہ عشاء کا الفظ لفظ علی علی الاطلاق الاط تاریکی پر دلالت کرتا اگر یہ لفظ رواج پا جاتا تو ممکن تھا کہ پھر یہ بحثیں شروع ہو جاتیں کہ کتنی تاریکی ہو تو رات کی پہلی نماز پڑھی جائے اور کتنی ہو کہ دوسری پڑھی جائے ۔ پس اصل مفہوم محفوظ رکھنے کے لئے آپؐ نے مذکورہ بالا ہدایت فرمائی ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۸) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باوجود یکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ تنبیہ تھی عنوان باب من سے شروع کیا ہے۔ قطعی طور پر اس کراہت کی صراحت نہیں کی بلکہ احتیاط کا پہلوملحوظ رکھا ہے۔ جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ مستند روایتوں میں نماز مغرب کا نام الْعِشَاءُ الأُولى اور عشاء کا نام الْعِشَاءُ الْآخِرَةِ ہے۔ اگلے باب میں حضرت انس کی روایت میں لفظ الآخرۃ سے عشاء کی تعین کی گئی ہے۔ ارشاد نبوی لَا تَغْلِبَنَّكُمْ کی تعمیل ایک رنگ میں اس طرح بھی کی گئی ہے کہ الفاظ الأولى اور الْآخِرَة سے مغرب اور عشاء میں امتیاز کیا گیا ہے۔ صَلَّيْتُ الْعِشَانَيْنِ بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس سے شبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ غرض اس بار یک فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے باب مذکورہ بالا میں جزم کا پہلو چھوڑ کر من سے اس کا عنوان قائم کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ امام موصوف نے بابوں کا عنوان قائم کرتے وقت باریک سے باریک فرق ملحوظ رکھے ہیں۔ باب ۲۰ : ذِكْرُ الْعِشَاءِ وَالْعَتَمَةِ عشاء اور عتمہ کا بیان وَمَنْ رَّاهُ وَاسِعًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ اور جس نے اسے وسیع سمجھا۔ حضرت ابو ہریرہ نے نبی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثْقَلُ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہا: الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِيْنَ الْعِشَاءُ منافقوں پر سب سے گراں نماز عشاء اور فجر ہے اور وَالْفَجْرُ وَقَالَ لَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي فرمایا: کاش کہ وہ جانتے جو ( ثواب ) عشاء اور فجر کی الْعَتَمَةِ وَالْفَجْرِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نماز میں ہے۔ ابو عبداللہ (بخاری) نے کہا: اور وَالِاخْتِيَارُ أَنْ يَقُوْلَ الْعِشَاءُ لِقَوْلِهِ پسندیدہ یہ ہے کہ عشاء کہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ار تَعَالَى وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ مِنْ بَعْدِ صَلوةِ الْعِشَاءِ اء اور حضرت ابو ابوموسی سے منقول (النور: ٥٩) وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي مُوسَی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس