صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 657 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 657

البخاري - جلد ا ۶۵۷ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة کر کے کچھ کا کچھ بنادیا۔یہ بات کئی مثالوں سے ثابت کی جاچکی ہے کہ صیح اور مستند روایتوں میں بعض وقت جو لفظی اختلاف راویوں کی طرف سے ہوتا ہے، اُس سے اصل مفہوم میں فرق نہیں آتا۔اس ضمن میں تشریح باب ۲۸،۲۷،۱۹، ۲۹ بھی دیکھئے۔باب ۱۸ : وَقْتُ الْمَغْرِبِ مغرب کا وقت وَقَالَ عَطَاء يَجْمَعُ الْمَرِيْضُ بَيْنَ اور عطاء نے کہا: بیمار مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ۔ے۔٥٥٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ :۵۵۹ محمد بن مہران نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: اوزاعی نے ہم سے الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِي بیان کیا، کہا: ابونجاشی نے ہم سے بیان کیا اور وہ عطاء هُوَ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبِ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ بن صہیب ہیں جو حضرت رافع بن خدیج کے آزاد خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ کردہ غلام تھے۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت يَقُوْلُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ رافع بن خدیج سے سنا کہ وہ کہتے تھے۔ہم نبی صلی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِقُ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ۔اور ہم میں سے ایک ایسے وقت میں لوٹتا کہ وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا۔٥٦٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ۵۶۰ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: شعبہ نے ہم سے شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بن عَمْرو بیان کیا۔شعبہ نے سعد سے، سعد نے محمد بن عمرو بن بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيّ قَالَ قَدِمَ حسن بن علیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حجاج الْحَجَّاجُ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ آیا اور ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ سے پوچھا۔فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تو دو پہر يُصَلَّى الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ کے بعد پڑھا کرتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت ابن