صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 656 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 656

البخاري - جلد ا ۶۵۶ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة کے ابتدائی حصہ میں پڑھے، نہ سورج ڈوبنے سے کچھ وقت پہلے ، جیسا کہ آج کل دیکھا جاتا ہے کہ اکثر لوگ آخری وقت اسے پڑھتے ہیں۔اصل مسئلہ کے متعلق روایات پیش کرنے کے بعد امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے جو باب ۱۷ قائم کیا ہے تو اس سے ایک استثنائی حالت کی طرف توجہ دلائی ہے۔بعض وقت انسان ایسا مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔جیسا کہ جنگ احزاب میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہوا ( دیکھئے روایت نمبر ۵۹۶ ) تو ایسی حالت میں مذکورہ بالا حکم ہے یعنی إِذَا أَدْرَكَ اَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِّنْ صَلوةِ الْعَصْرِ۔۔سجدہ سے مراد رکعت ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۵۷۹ میں امام مالک سے بجائے سَجَدَةً کے رَكْعَةً مروی ہے۔اس لئے عنوانِ باب میں رَكْعَةً کا لفظ بطور تشریح اختیار کیا گیا ہے۔جو لوگ اس استثنائی حالت کی بناء پر نماز عصر میں تاخیر کرنے سے متعلق استدلال کرتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔اس روایت سے بھی ان نمازوں کی اہمیت ہی ثابت ہوتی ہے۔یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان میں عمداً تا خیر کرنا جائز ہے۔روایت نمبر۵۵۷ بھی سابقہ مضمون کی تائید کرتی ہے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيْمِهَا۔عمل کا انحصار خا تمہ پر ہے۔ایک کام شروع کر کے اس کو درمیان میں چھوڑ دینا نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔عمل کی قیمت تکمیل عمل سے ہے۔اس نکتہ معرفت کو سمجھانے کے لئے جو مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دی ہے۔(دیکھئے: متنی باب ۲۰، آیت: ۱ تا ۱۶) فَهُوَ فَضْلِى أُوتِيهِ مَنْ اَشَاءُ : اللہ تعالیٰ کا فضل بھی تحمیل عمل پر ہوتا ہے نہ کثرت عمل پر۔یہود و نصاری نے کہا: نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا کہ ہم بہت عمل کرنے والے ہیں۔مگر باوجود اس کے فضل الہی یہود و نصاری کے شامل حال نہ ہوا۔روایت نمبر ۵۵۸ میں اس امر کی مثال دی گئی ہے کہ بغیر عذر کے کام چھوڑ دینا انسان کو کسی ثواب کا مستحق نہیں ٹھہراتا۔فَقَالُوا لَا حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْركَ۔یہود و نصاری نے کہا: ہمیں تیری مزدوری کی ضرورت نہیں۔یہ کہہ کر بغیر کسی معقول سبب کے کام چھوڑ دیا اور اپنا معاہدہ پورا نہ کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اجر سے محروم ہو گئے۔روایت نمبر۵۵۷ اور روایت نمبر ۵۵۸ دو مختلف مضمونوں سے متعلق ہیں۔جو الگ الگ مثالوں سے واضح کئے گئے ہیں۔پہلی مثال اس امر کی ہے کہ محض کثرت عمل کسی کو اللہ تعالیٰ کے فضل کا مستحق نہیں ٹھہراتا۔دوسری مثال اس امر کی ہے کہ بغیر عذر کام چھوڑ دینا انسان کو اس کے حق سے محروم کر دیتا ہے۔مَنْ اَدْرَكَ رَكْعَةً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ایک رکعت پڑھنے سے ساری نماز کا ثواب اسی کو ملے گا جوس صحیح عذر اور مجبوری کی وجہ سے نماز کو وقت پر نہیں پڑھ سکا۔اگر وہ درحقیقت مجبور تھا اور نماز پڑھنا چاہتا تھا۔فَعَجَزَ مگر بے بس ہو گیا تو وہ پوری نماز کے ثواب کا مستحق ہوگا ورنہ نہیں۔باب ۷ اسکے تعلق میں کتاب الاجارۃ باب ۸-۹ بھی دیکھئے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس لطیف نکتہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے باب ۱۷ میں دو مختلف المفہوم روایتیں لائے ہیں۔یہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی تھی جس کو راویوں کے فہم اور حافظہ نے معانی میں تغیر وتبدل اس روایت کے لیے دیکھئے: کتاب الرقاق۔باب الاعمال بالخواتيم۔روایت نمبر ۶۴۹۳ -