صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 655 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 655

البخارى- جلد ا ۶۵۵ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ٥٥٨: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ :۵۵۸: ابوکریب نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُرید سے، برید نے بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ابو بردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسی سے، اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُسْلِمِيْنَ حضرت ابو موسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ مسلمانوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت وَالْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اس شخص کی حالت کی مانند ہے جس نے کچھ لوگ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُوْنَ لَهُ عَمَلًا إِلَى مزدوری پر لگائے کہ وہ اس کے لئے رات تک کام اللَّيْلِ فَعَمِلُوْا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ کریں تو انہوں نے آدھا دن کام کیا اور کہا: ہمیں فَقَالُوْا لَا حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْرِكَ تیری مزدوری کی ضرورت نہیں۔اس نے اوروں کو فَاسْتَأْجَرَ آخَرِيْنَ فَقَالَ أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ مزدوری پر لگایا اور کہا کہ تم اپنا بقیہ دن پورا کرو اور يَوْمِكُمْ وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ فَعَمِلُوْا تمہیں وہی مزدوری ملے گی جس کی میں نے شرط کی حَتَّى إِذَا كَانَ حِيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ہے۔یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو قَالُوْا لَكَ مَا عَمِلْنَا فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا انہوں نے کہا: یہ لو سنبھالو جو ہم نے کیا ہے۔اس پر فَعَمِلُوْا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتَّى غَابَتِ اُس نے کچھ اور لوگ مزدوری پر لگائے اور وہ بقیہ دن الشَّمْسُ وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ کام کرتے رہے۔یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے دونوں گروہوں کی مزدوری پوری کی پوری طرفه: ۲۲۷۱ تشریح: لے لی۔بعض اس طرف گئے ہیں کہ حضرت عائشہ وغیرہ کی روایات سابقہ الذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عصر دیر کر کے پڑھنی چاہیے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۵- زیر تشریح باب ۱۳: وقت العصر ) اور اس بارے میں امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ عصر کا ابتدائی وقت تب شروع ہوتا ہے جب کسی چیز کا سایہ اس سے دو گنا ہو جائے۔بعض ائمہ اس کے خلاف ہیں (بداية المجتهد كتاب الصلاة الجملة الثانية۔الباب الأول الفصل الاول في الاوقات۔المسئلة الثانية اختلفوا من صلاة العصر في موضعين) سایہ دوگنا ہونے کے بعد ( وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ( سورج روشن رہتا ہے اور مغرب تک اتنا وقت ہوتا ہے کہ انسان نماز عصر پڑھ کر دو تین میل تک جاسکے اور سورج ابھی اونچا ہی ہو۔غرض نماز عصر جلدی پڑھنے سے یہی مراد ہے کہ اپنے وقت