صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 653 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 653

البخاری جلد ا ۶۵۳ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة صبح کا وقت پو پھٹنے سے لے کر سورج نکلنے تک ہوتا ہے اور اُس کے مقابل عصر کا وقت ہے اور ملائکہ کا یہ نزول اور عروج تدریجی ہوتا ہے۔جیسا کہ آیت وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ (مریم:۶۵) کے مضمون سے ظاہر ہے۔تنزل جو باب تفعل ہے، تدریج کا مفہوم بھی شامل رکھتا ہے۔ایسا ہی لفظ عروج میں بھی معنا ایک قسم کا تسلسل پایا جاتا ہے۔باطنی قومی و روحانی ملکات اور وہ استعدادات صالحہ بھی جو تسبیح و تقدیس کی برکت سے نفس بشریہ میں نشو و نما پاتی ہیں۔ملائکۃ اللہ کا مظہر بنتی اور کیفیات ذکر الہی کے دوام کا بہت بڑا باعث ہو جاتی ہیں کہ ایک لمحہ کے لیے بھی مردانِ خدا کو اس سے غافل نہیں ہونے دیتیں۔جیسا کہ سورہ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُقِ وَالْأَصَالِ 0 رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ ( النور : ۳۷-۳۸) یہ مضمون ہے حدیث نمبر ۵۵۵ کا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس دائی تسبیح سے تعلق رکھنے والے باطنی ملائکۃ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں:۔سو ظاہری فرشتے تو معلوم ہی ہیں مگر پاک اخلاق اور پاکیزہ حالتیں اور شوق و ذوق و توکل و رضا و نیستی وقتا اور شورش ہائے عشق مولیٰ ایک قسم کے فرشتے ہی ہیں جو قادر مطلق نے اپنے اس محبوب افضل الرسل کے وجود میں اکمل اور اتم طور پر پیدا کئے تھے اور پھر اُسی کے اتباع سے ہر یک مومن کامل کے دل میں بھی باز نہ تعالیٰ پیدا ہو جاتے ہیں۔( مفصل دیکھئے سرمہ چشم آریہ حاشیہ صفہ ۱۲- ۲۴، روحانی خزائن جلد۲ حاشیه صفحه ۶۹-۷۲) بَاب :١٧: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ الْغُرُوبِ جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی ٥٥٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۵۶ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے تجھی سے بچی نے ابوسلمہ سے، أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ انہوں اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَإِذَا ایک سجدہ پالے تو چاہیے کہ وہ اپنی نماز کو پورا کرے أَدْرَكَ سَجْدَةً مِّنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ اور اگر سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک سجدہ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ۔پالے تو چاہیے کہ وہ بھی اپنی نماز پوری کرے۔اطرافه: ٥٧٩، ٠٥٨٠