صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 652 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 652

البخاری جلد ا ۶۵۲ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة حواس خمسہ پر مادی ماحول کا پورا پورا تسلط ہو اور وہ اس کی توجہ کو ایک آن کے لیے بھی روحانیت کی طرف پھرنے نہ دیتا ہو وہ عالم روحانی سے کیسے اتصال پکڑ سکتا ہے! اس کے لیے تو ایک عملی جدو جہد کی ضرورت ہے۔خود مادی دنیا کے بہت سے حقائق ہیں جو ہمارے حواس خمسہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مگر اُن میں بھی ہمارے یہ حواس دھو کہ کھاتے ہیں۔حقائق اپنی اصلیت میں کچھ اور ہوتے ہیں مگر حواس خمسہ ان کے متعلق برعکس حکم دیتے ہیں۔ہم بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں کہ سورج نہیں بلکہ زمین گھومتی ہے مگر دیکھنے میں سورج نکلتا اور غروب ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حواس اپنے ظاہری ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔عالم روحانی کی مخفی در مخفی کیفیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی طور پر مشاہدہ کرائی گئی تھیں اور لوگوں کی تعلیم و ہدایت کے لیے آپ نے ان کو ایسے پیرایہ میں بیان فرمایا ہے کہ جس سے عام لوگ بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا علم لفظی سوال و جواب کا محتاج نہیں جیسا کہ خود حدیث کے الفاظ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِهِمُ ظاہر کر رہے ہیں۔بلکہ یہ طریقہ بیان صرف لوگوں کے سمجھانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ورنہ عالم روحانی کی کیفیات مشاہدہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات جو ملائکہ کے ذریعے انسان کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں؛ وہ ایسی لطیف ہوتی ہیں کہ بغیر الفاظ کے سوالات بھی ہوتے ہیں اور جوابات بھی اور اس سوال و جواب میں کوئی وقت بھی خرچ نہیں ہوتا۔ایک آن کی آن میں عجیب کی کیفیت بندھ جاتی ہے جس کے اندر یقینی معرفت کا خزینہ بھرا ہوتا ہے اور اُس کی ماہیت سوائے تمثیل اور الفاظ کے کسی اور طریق سے بیان کرنا بالکل ناممکن ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی ان خاص تجلیات کو جن کا تعلق براہِ راست ملائکہ کے ساتھ ہے، اپنی بول چال پر قیاس کرنا محض جہالت ہے۔اللہ تعالیٰ کی تجلیات جو انسانوں کے ساتھ مخصوص ہیں، وہ تو اس وجہ سے کہ ہم انسان ہیں کچھ نہ کچھ تصور میں آسکتی ہیں۔مگر اس کی وہ تجلیات جو صرف ملائکہ کے ساتھ مخصوص ہیں، اپنی اصل حقیقت و شان میں کیسے تصور میں لائی جاسکتی ہیں؟ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود اُن سے آگاہ فرمائے ، جیسا کہ اُس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ فرمایا ہے۔مگر جب ہم اُن کو بیان کرتے ہیں تو اُن کی اصل ماہیت سے ہٹ کر اپنے طرز کلام ہی میں بیان کرتے ہیں۔اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔بعض شارحین نے آیت وَإِنَّ عَلَيْكُمُ لَحفِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ (الإنفطار : ۱۱-۱۲) کا حوالہ دیتے ہوئے مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سے وہ ملائکہ مراد لیے ہیں جو انسان کی حفاظت کے لیے مقرر کئے گئے ہیں۔(دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۴۷- عمدة القاری جزء خامس صفحه ۴۴) مگر یہ میچ نہیں کیونکہ وہ ایک لحظہ کے لیے بھی انسان سے جُدا نہیں ہوتے۔شارحین کی طرف سے یہ اعتراض بھی اُٹھایا گیا ہے کہ صبح کے مقابل شام کا ذکر چاہیے تھا نہ کہ عصر کا؟ اور رات کے ملائکہ کے جانے اور اُن سے سوال کئے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔دن کے ملائکہ سے سوال کرنے کا ذکر نہیں؟ اس اعتراض کے انہوں نے مختلف جواب دیے ہیں۔بات کا لفظ کان یعنی ہونے یا رہنے کے معنوں میں اکثر استعمال ہوتا ہے۔یہ لفظ صرف رات گزارنے کے لیے ہی مخصوص نہیں۔يَعْرُجُ الَّذِيْنَ بَا تُوا فِيكُمُ سے دونوں قسم کے ملائکہ کار ہنا اور چڑھنا مراد ہے۔(فتح الباری الجزء الثانی صفحہ ۴۸)