صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 650
البخاری جلد ا ۶۵۰ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة فَيَقُوْلُوْنَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ میرے بندوں کو تم نے کیسے چھوڑ ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ۔ہم نے اُن کو چھوڑا ہے ایسی حالت میں کہ وہ نماز پڑھ اطرافه: ٣٢۲۳، ٧٤٢٩، ٧٤٨٦- رہے تھے اور ہم اُن کے پاس ایسی حالت میں آئے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔تشریح: احادیث نبویہ میں نماز عصر کو خصوصیت اس لئے دی گئی ہے کہ روز مرہ کے معمولی حالات میں یہی نماز ایسے وقت میں ہوتی ہے جب بازار تجارت گرم ہوتا ہے۔اس لئے یہ باب نماز عصر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں باندھا گیا ہے۔اس باب کے ضمن میں جن دو روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے اُن میں نماز صبح کی بھی تاکید ہے۔کیونکہ خواب غفلت میں اس نماز کے بھی ضائع ہونے کا خوف ہوتا ہے۔فَإِنِ اسْتَطَعْتُمُ اَنْ لَّا تُغْلَبُوهُ۔۔سے ظاہر ہے کہ صبح اور عصر کی نمازیں ایسے اوقات میں واقع ہوئی ہیں جن میں نیند یا کاروبار کا غلبہ ہوتا ہے۔دونوں حالتوں میں انسان کے غافل ہونے کا اندیشہ ہے۔پس جو شخص عام موانع کا مقابلہ کر کے اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لئے وقت پر حاضر ہو جاتا ہے وہ اپنے شوق و اخلاص کا ثبوت دیتا ہے۔روز جزا کو اس مناجات کے بدلے میں اسے دیدار الہی نصیب ہوگا۔سورۃ ق کی جن آیات کا حوالہ روایت نمبر ۵۵۴ میں دیا گیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدَهِ (قَ:٣٦) لَدَيْنَا مَزِيدٌ سے دیدار الہی مراد لیا گیا ہے۔( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحه ۶ از بر آیت ہذا ) حدیث میں جو تشبیہ دی گئی ہے وہ رویت یعنی دیکھنے کی ہے نہ ذات باری تعالیٰ کی۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ (الشوری:۱۲) اُس کی مانند کوئی بھی نہیں اور اس رؤیت کا ادراک اس دنیا میں اور اِن آنکھوں سے کرنا ناممکن ہے تفصیل کے لئے دیکھئے:۔بخارى كتاب التوحيد۔باب ۲۴: قول الله تعالى وجوه يومئذ ناضرة الى ربها ناظرة۔لَا تُضَادُّونَ میم کی مد سے ہو تو مصدر ضم سے ہے جس کے معنی اجتماع و ازدحام کے ہیں اور اگر میم پر شد نہ ہو تو ضیم سے ہے جس کے معنے تکلیف کے ہیں یعنی جس طرح سورج کو دیکھنے سے آنکھوں کو تکلیف ہوتی ہے، دیدار الہی سے تکلیف نہ ہوگی۔يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَّلَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ۔۔روایت نمبر ۵۵۵ میں صبح اور عصر کے اوقات کی ایک اور خصوصیت بتائی گئی ہے جس کا تعلق در حقیقت عالم روحانی کے ساتھ ہے۔نظام عالم دو جہتیں رکھتا ہے جس کی مثال سینما کی سی ہے۔اس کی ایک جہت میں دیکھنے کے لئے مختلف نظاروں کا لگا تار چکر چل رہا ہوتا ہے اور دوسری جہت میں پس پردہ بجلی کی مشین اور کچھ ہاتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ہو بہو یہی حال نظام عالم کا ہے۔نظام مادی میں جو کچھ ظہور پذیر ہورہا ہے وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کے ایک وسیع علم اور غیر محدود قدرت کے تحت عظیم الشان قوتوں کے ذریعے سے انجام پا رہا ہے۔یہ قو تیں قرآن مجید کی اصطلاح میں ملائکہ کے نام سے موسوم کی گئی ہیں۔رات دن کے ہر نئے تغیر کے پیچھے بھی