صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 651
البخارى جلد ا ۶۵۱ ۹ - کتاب مواقيت الصلوة نظام عالم کی گل چلانے والی ان روحانی ہستیوں کا ہاتھ کام کر رہا ہوتا ہے بلکہ کائنات عالم کا ذرہ ذرہ ان کے تصرف کے نیچے ہے۔رات کے تغیرات اور نوعیت کے ہوتے ہیں اور دن کے اور نوعیت کے اور اُن کے ساتھ ملائکہ کا جو عملہ لگایا گیا ہے وہ بھی اپنی اپنی نوعیت میں جدا گانہ حیثیت اور جدا گانہ فرائض رکھتا ہے۔مذکورہ بالا حدیث نظامِ روحانی کے اسی قسم کے سلسلہ تصرفات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔دن رات کے تغیرات میں صبح کا وقت اور عصر کا وقت ایک ایسا زمانہ ہے جو در اصل استحالہ یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونے کا نام ہے۔تغیر و تبدل یوں تو ہر وقت اور ہر لحظہ میں ہی ہو رہا ہے۔مگر ایک نمایاں تغیر کا آغاز ان دو وقتوں میں محسوس طور پر ہوتا ہے۔(دیکھیں روایت نمبر ۵۷۴) پس اس ساعت استحالہ میں دونوں قسم کے ملائکہ کا اکٹھا ہونا ایک طبعی امر ہے بلکہ ہر استعمالی زمانے کا ایک لازمی اور ضروری خاصہ ہے کہ بدل اور مبدل منہ کی کیفیات اور ان کے عوامل پہلو بہ پہلو جمع ہو کر کشمکش کی حالت میں ہوتے ہیں اور یہ بات یادر ہے کہ ملائکۃ اللہ کا یہ اجتماع تمنلی اور انعکاسی صورت میں ہوتا ہے جیسے ان کا نزول اور صعود۔(دیکھئے کتاب الایمان تشریح باب ۳۷: سؤال جبریل النبی روایت نمبر ۵) اور ایک ایک ذرہ عالم جو حالت استحالہ کی کشمکش میں ہوتا ہے، ملائکہ کے اس اجتماع سے بحیثیت مجموعی متاثر ہوتا ہے۔انسان کا نفس بھی اسی قانونِ استحالہ کے تحت ہوتا ہے۔پس ان اوقات مخصوصہ میں عبادت الہی میں مشغول ہونے کے لئے جہاں ایک طرف غافل کرنے والے اسباب کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے وہاں دوسری طرف انسان کے روحانی استحالہ کے لئے موافق حالات سے فائدہ اُٹھانے کے لئے جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔عبادت الہی کے لئے یہ جد و جہد بھی اُن موافق حالات میں سے ایک ایسا محرک بن جاتا ہے جو اس کو روحانی جادہ ترقی پر ایک دھکا دینے کا کام دیتی ہے۔اس نازک گھڑی میں اگر انسان کی معنوی حالت عبودیت کی ہو گی تو اس معنوی حالت کا میلان یقیناً انسان کے قدم کو بہتر حالت کی طرف لے جانے والا ہوگا بشرطیکہ دوسرے غیر معمولی ناموافق حالات اس میلان کو کسی اور طرف دھکا نہ دے دیں۔کیونکہ ہر جد و جہد انسان کے نفس میں قوت فقالہ پیدا کرنے کا باعث بن جاتی ہے اور اس کے راستے کو آسان سے آسان بنا دیتی ہے۔كَيْفَ تَرَكْتُمُ عِبَادِی ؟ یہ سوال کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے؟ بتا تا ہے کہ انسان کی حالت کا اصل موازنہ اس کے انجام سے ہوتا ہے۔تمہارے چھوڑنے پر اُن کی کیا حالت تھی ؟ یعنی ایسے وقت میں جبکہ اُن کا نفس ایک حالت سے دوسری میں منتقل ہو رہا تھا۔ان کی مخصوص حالت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مابعد کی حالت کس نوعیت کی ہوگی۔اگر زمانہ استحالہ میں معنوی حالت درست ہے تو پھر دوسری حالت کا آغاز بھی درست ہوگا۔اس لئے انسان کو اپنی روحانی حالت کی نگرانی اس زمانہ میں خصوصیت سے کرنی چاہئے۔کیونکہ زمانہ استحالہ میں غفلت کرنے کے نتائج دور تک اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ممکن ہے کہ بعض لوگ اس تشریح کو صرف خیالی ہی سمجھیں اور عملی زندگی میں ملائکہ کے تغیر و تبدل سے استحالہ کی کوئی کیفیت بھی محسوس نہ کریں۔لیکن روحانی امور میں مشاہدہ کا سوال خود انسان کے نفس میں پہلے ایک عملی تغیر چاہتا ہے۔وہ پہلے ان نمازوں سے متعلق خاص اہتمام کرے اور پھر ملکی تغیرات کو خود دیکھ لے۔جس شخص کے