صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 649
البخارى جلد ا ۶۴۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة إِسْمَاعِيْلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيْرِ قَالَ كُنَّا کیا۔انہوں نے قیس سے قیس نے جریر سے روایت عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً يَعْنِي الْبَدْرَ فَقَالَ إِنَّكُمْ آپ نے ایک رات چاند دیکھا یعنی چودھویں رات کا سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا چاند اور آپ نے فرمایا: تم ضرور اپنے رب کو اسی طرح تُضَادُّوْنَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا دیکھو گے جس طرح کہ تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔اس کے دیکھنے کے لئے تمہیں اس بات کی ضرورت نہ تُغْلَبُوْا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ ہوگی کہ ایک دوسرے سے لپٹ کر پوچھو کہ وہ کہاں الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوْا ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ (ق: ٤٠) قَالَ ہے؟ پس اگر تم سے ہو سکے کہ تم اس نماز کے پڑھنے میں ہمت نہ ہارو جو سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے ہے تو ایسا ہی کرو۔پھر آپ نے یہ آیت إِسْمَاعِيْلُ افْعَلُوْا لَا تَفُوْتَتَكُمْ۔پڑھی تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے تسبیح کیا کر “ اسماعیل نے کہا: افعلوا کے معنی ہیں تم سے یہ ( نمازیں) نہ رہ جائیں۔اطرافه : ٥٧٣ ، ٤٨٥١، ٧٤٣٤ ٧٤٣٥، ٧٤٣٦ ٥٥٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۵۵۵ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ نے اعرج سے۔اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم يَتَعَاقَبُوْنَ فِيْكُمْ مَّلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ میں کچھ ملائکہ رات کو اور کچھ ملائکہ دن کو یکے بعد وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُوْنَ فِي دیگرے آتے جاتے ہیں اور فجر اور عصر کی نماز میں وہ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پھر وہ ملائکہ جو تم میں رہے تھے، يَعْرُجُ الَّذِيْنَ بَاتُوا فِيْكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ اوپر چلے جاتے ہیں اور ان سے (اللہ تعالی ) پوچھتا وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ہے، حالانکہ وہ ان کا حال بہتر جاننے والا ہے۔