صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 647
صحيح البخاری جلد ا ۶۴۷ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة بَاب ١٤: إِثْمُ مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ اس شخص کا گناہ جس کی نماز عصر جاتی رہے ٥٥٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۵۲: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے اور نافع عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي تَقُوْتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز عصر جاتی رہی تو كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ { قَالَ أَبُو عَبْدِ گویا اس کا گھر بار اور مال لوٹ لیا گیا۔ اللهِ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ (محمد : ٣٦) ابو عبدالله ( بخاری ) نے کہا: يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ۔ وَتَرْتُ الرَّجُلَ إِذَا قَتَلْتُ لَهُ قَتِيلًا أَوْ وَتَرْتُ الرَّجُلَ جب میں اُس کا آدمی مار ڈالوں یا أَخَذْتُ لَهُ مَالًا } ۔ اس کا مال لے لوں ۔ بَاب ١٥: مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی ٥٥٣: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۵۳: مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى ہشام نے بتایا، کہا بچی بن ابی کثیر نے ہم سے بیان ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي کیا ۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابو قلابہ نے ابو الملح الْمَلِيْحِ قَالَ كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: ہم ایک لڑائی میں فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ فَقَالَ بَكِّرُوا بِصَلَاةِ حضرت بریدہ کے ساتھ تھے۔ اس دن ابر تھا۔ انہوں الْعَصْرِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: عصر کی نماز جلدی پڑھ لو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ وَسلم نے فرمایا ہے جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کا فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ۔ طرفه: ٥٩٤۔ ☆ عمل اکارت گیا۔ یہ عبارت بعض دیگر نسخوں کے مطابق ہے۔ (دیکھئے عمدۃ القاری الجزء الخامس صفحہ ۳۹)