صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 648
صحيح البخاری جلد ا ۶۴۸ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة نماز عصر سے متعلق ایسی روایتیں پیش کرنے۔ کرنے کے بعد جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ یہ نماز بھی مقررہ اندازے پر اور اس کی ابتدا ہی میں پڑھا کرتے۔ ھا کرتے تھے۔ تین باب یکے بعد دیگرے قائم تے کیے گئے ہیں۔ ایک میں نماز عصر بلا قصد رہ جانے کا گناہ۔ دوسرے میں اسے عمد اترک کرنے کا گناہ۔ تیسرے میں اس نماز کی اہمیت اور فضیلت ۔ پہلے گناہ کی نسبت فرمایا : فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلُهُ وَ مَالُهُ۔ وَتَرَ بمعنی نقص یعنی گھٹا دیا۔ قرآن مجید میں آتا ہے: لَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَا لَكُمْ ۔ (محمد (٣٦) یعنی اللہ تمہارے اعمال میں تم سے ہرگز ہرگز کمی نہیں کرے گا۔ دراصل یہ لفظ جان یا مال کے ایسے نقصان پر بولا جاتا ہے کہ جس کا کوئی بدلہ یا معاوضہ نہ ہو۔ موتور : اس شخص کو کہتے ہیں جس کا کوئی آدمی قتل کیا جائے اور وہ بدلہ نہ لے سکے۔ (المنجد في اللغة ۔ تحت لفظ و تر) ایسے شخص کا غم اور افسوس سوس حد درجہ کا ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے گھر بار یا اپنی تجارت کے دھندے میں ایسا مشغول ہو گیا ہو کہ اس کو عصر کی نماز پڑھنے کا بھی خیال نہ رہے۔ اس کا افسوس کرنا ایسا ہی ہے جیسے اس شخص کا افسوس جس کا مال اور گھر بار لوٹ لیا جاتا ہے اور وہ اُن کو واپس لینے پر قدرت نہیں رکھتا۔ غرض ایک تشبیہ سے اس گناہ کی نوعیت واضح کی گئی ہے کہ یہ چھنا ہوا متاع کسی طرح واپس نہیں مل سکتا۔ دوسرے گناہ کی نسبت فرمایا : حَبِطَ عَمَلُهُ۔ یعنی اُس کی محنت اکارت گئی ۔ یعنی اُس نے اپنے دنیا کے دھندے دینی حاد کام پر مقدم رکھے ہیں۔ اس لئے اس گناہ کی یہ سزا ہو گی کہ اس کی محنت بے برکت ہوگی ۔ شام اور عشاء کے اوقات ایسے ہوتے ہیں کہ آدمی کو اُن میں ایک گونہ کا روبار سے فراغت حاصل ہوتی ہے اور عصر کا ایک ایسا وقت ہے جس میں لین دین کا کاروبار ہوتا ہے اور اس وقت انسان کے اخلاص عمل کا امتحان ہوتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ کس شخص نے باقی نمازیں پورے اخلاص اور شوق سے پڑھی تھیں اور کس نے رسمی طور پر ۔ کیونکہ مخلصانہ روح کی بے قراری و شوق پر کوئی کاروبار غالب نہیں آسکتا۔ پس جس شخص شخص نے جا خص نے جانتے بوجھتے عصر کی نماز اپنی کسی دنیاوی غرض کی وجہ سے ترک کر دی، اُس نے یقیناً اس بات کا ثبوت دے دیا کہ وہ مخلصانہ روح سے خالی ہے اور اس کی باقی نمازیں بھی صرف رسم و رواج کا بے جان ڈھر تھا۔ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُه۔ اس لئے وہ اس بات کا مستحق ٹھہرا کہ اس کا پہلا عمل بھی رائیگاں جائے یہ مفہوم ہے اس حدیث کا اور آیت حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى وَقُوْمُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقره: ۲۳۹) میں جو درمیانی نماز کی حفاظت کی بابت خاص تاکید کی گئی ہے یہ وہ نماز ہے جو مشاغل دنیا کے درمیان آجائے خواہ کوئی نماز ہو۔ جس نماز کے ضائع ہونے کا خوف ہوگا اس کی حفاظت سے متعلق یہ تاکید ہے۔ بَاب ١٦ : فَضْلُ صَلَاةِ الْعَصْرِ نماز عصر کی فضیلت ٥٥٤: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ ۵۵۴ حمیدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: مروان بن حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا معاویہ نے ہمیں بتایا۔ کہا: اسماعیل نے ہم سے بیان