صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 2
صحيح البخاری جلد ) الزُّبَيْرِ ا - كتاب بدء الوحي ١: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ا: ہم سے حمیدی یعنی عبد اللہ بن زبیر نے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا کہ ہم سے يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ كي بن سعيد انصاری نے بیان کیا کہ مجھے محمد بن أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ ابراہیم تیمی نے خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَاصِ اللَّيْنِيَّ يَقُولُ لیٹی سے سنا۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر بن سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ خطاب رضی اللہ عنہ سے جبکہ وہ منبر پر تھے؛ سنا۔عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِنَّمَا سے سنا۔آپ فرماتے تھے کہ اعمال تو نیتوں ہی پر الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا ہیں اور یہ کہ ہر انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا اس نے نیت کی۔پس جس نے دنیا کے پانے یا کسی يُصِيْبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يُنْكِحُهَا فَهَجْرَتُهُ عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی ، اس کی ہجرت اُسی امر کے لئے ہوگی جس کی خاطر اس نے إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔اطرافه: ٦٨٤، یہ ہجرت کی۔۷۱۹۰ ،۲۶۹۳ ،۱۲۳۶ ،۱۲۱۸ ،۱۲۰۰ ،۱۲۰ تشریح : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کی حدیث بھی جوامع الکم میںسے ہے اوراس وجہ سے بعض علما نے اس کو ایک تہائی اسلام قرار دیا ہے اور بعض نے ایک تہائی علم کا اور امام بخاری فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے بڑھ کر پر حکمت، پر معانی اور کوئی حدیث نہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۴) بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دین کی ساری ماہیت اس ایک جملہ میں کوٹ کر بھر دی گئی ہے اور یہ جملہ در حقیقت بطور اس اصل الاصول کے ہے کہ جس سے انسان کو حیوان سے امتیاز حاصل ہوتا ہے اور جس کی بناء پر انسان کے طبعی افعال دائرہ اخلاق میں داخل ہو کر انسان کو ذمہ وار اور اعمال کی جواب دہ ہستی بنا دیتے ہیں اور شریعت کی تمام پابندیاں اس پر عائد ہو جاتی ہیں۔اس لئے اس حدیث کی تھوڑی سی وضاحت کرنی از بس ضروری معلوم ہوتی ہے تا کہ اس کا تعلق اس باب سے اور نیز اس کتاب کے مضمون سے پورے طور پر واضح ہو جائے۔علماء اسلام نے فعل اور عمل کے درمیان یہ فرق بتلایا ہے کہ فعل طبیعی حرکت کو کہتے ہیں جس میں نیت کا دخل نہیں اور عمل وہ فعل ہے جس میں نیت کا دخل ہو جو بالا رادہ قصداً کیا جائے۔جس کے کرنے پر انسان کا طبعی فعل اچھا یا برا کہلاتا