صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 640 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 640

البخارى- جلد ا ۶۴۰ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة تھے۔اس حوالہ سے اُن فقہاء کو فہ کارڈ کرنا مقصود ہے جن کا یہ خیال ہے کہ ظہر کی نماز اول وقت پڑھنی ضروری نہیں۔حضرت جابر کے مذکورہ بالا حوالہ کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۵۶۰، ۵۶۵۔روایت نمبر ۵۴۰ کے لیے کتاب العلم باب :۲۸ الغضب في الموعظة۔روایت نمبر ۹۲ کی تشریح دیکھئے۔حضرت انس کی اس روایت میں الفاظ حِینَ زَاغَتِ الشَّمْسُ زائد ہیں اور انہی الفاظ کا عنوان باب کے ساتھ تعلق ہے۔زاغ کے معنی مائل ہونا، ڈھلنا۔عُرِضَتْ عَلَى الْجَنَّةُ وَالنَّارُ انِفًا: دیکھئے تشریح کتاب العلم باب ۲۴: من اجاب الفتيا بإشارة اليد والرأس روایت نمبر ۸۵ - يُصَلِّى الظُّهَرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمُسُ : روایت نمبر ۵۴۱ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ سورج ڈھلنے پر آپ نماز ظہر پڑھا کرتے تھے۔یہ روایت اس خیال کے رڈ کرنے کے لیے لائی گئی ہے کہ شاید ایام سرما میں سورج ڈھلنے پر نماز پڑھا کرتے ہوں۔الفاظ سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتَّقَاءَ الْحَرِ سے معلوم ہوتا ہے کہ گرمی کا موسم تھا۔مگر اس سے الإِبْرَادُ بالظہر کے خلاف ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اگر گرمی میں تین بجے بھی نماز پڑھی جائے تو اس وقت بھی فرش اتنا گرم ہوتا ہے کہ سجدہ کرنے کے لیے کپڑا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان روایتوں میں تطبیق اسی طرح دی جا سکتی ہے کہ شدت گرمی کے سوا باقی موسموں میں ظہر اول وقت میں پڑھا کرتے تھے جبکہ دو پہر کو گرمی برداشت کی جاسکتی تھی اور عام طور پر آپ کی یہی سنت تھی۔مگر شدت گرمی میں آپ ٹھنڈے وقت نماز ظہر پڑھتے۔بَابِ ۱۲ : تَأْخِيْرُ الظُّهْرِ إِلَى الْعَصْرِ ظہر میں عصر تک تاخیر کرنا ٥٤٣: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ ۵۴۳ : ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار سے ، عمرو ابْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ نے جابر بن زید سے، جابر نے حضرت ابن عباس عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيَا الظُّهْرَ آٹھ رکعتیں نماز ظہر اور عصر کی اور سات رکعتیں وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ فَقَالَ مغرب وعشاء کی اکٹھی پڑھیں۔اس پر ایوب نے کہا: أَيُّوبُ لَعَلَّهُ فِي لَيْلَةٍ مَّطِيْرَةٍ قَالَ عَسَى شاید یہ برساتی رات میں ہو۔کہا: ہوسکتا ہے۔اطرافه: ٥٦٢، ١١٧٤۔بعض فقہاء نے اس مسئلہ میں یہ رائے قائم کی ہے کہ ظہر ایسے وقت میں پڑھی جائے کہ اس سے فارغ ہونے پر دوسری نماز کا وقت شروع ہو جائے اور یہ جمع تو کہلائے گی مگر باعتبار اوقات جمع نہیں بلکہ ہر نماز تشریح: