صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 641
البخارى- جلد ا ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اپنے وقت میں ہوگی۔لیکن عنوان باب کی نحوی ترکیب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظہر کی نماز میں اس قدر دیر کرنا کہ عصر کا وقت شروع ہو جائے اور پھر دونوں کو جمع کرنا۔حرف الی آخری وقت پر دلالت کرتا ہے۔جس روایت سے مسئلہ معنونہ کے بارے میں استدلال کیا گیا ہے وہ مسلم ، نسائی اور ابو داؤد نے بھی بسند امام مالک نقل کی ہے اور اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ۔۔۔قَالَ مَالِكٌ أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مطر۔( ابوداؤد - کتاب الصلاة - باب الجمع بين الصلاتین یعنی نماز بغیر خوف یا سفر کے جمع کی گئی تھی۔امام مالک نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ نمازیں بارش میں جمع کی گئی تھیں۔امام بخاری کی اس روایت میں ایوب سختیانی نے یہی احتمال پیش کیا ہے۔جس کا جواب بھی احتمال سے ہی دیا گیا ہے۔امام موصوف نے مذکورہ بالا روایت کی بناء پر جو عنوان قائم کیا ہے، اس میں کسی قسم کی قید نہیں لگائی گئی ؛ نہ بارش کی ، نہ بیماری کی۔کیونکہ صرف احتمال پر مسئلہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔مسلم کی ایک اور روایت میں تو اس بات کی بھی تصریح ہے: وَلَا مَطَر۔یعنی بغیر بارش کے۔(دیکھئے مسلم۔کتاب صلاة المسافرين وقصرها باب الجمع بين الصلاتين في الحضر) آپ نے مدینہ میں نمازیں جمع کیں۔اس روایت کی بناء پر یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ بغیر ضرورت اور عذر کے وہ جمع کی گئی تھیں۔کیونکہ اوقات کی پابندی کے ساتھ نمازیں پڑھنے کا حکم صریح اور واضح ہے۔پس ضرور ہے کہ آپ نے کسی سبب سے نمازوں میں غیر معمولی تاخیر کی ہوگی۔اس لیے بغیر عذر نمازیں جمع کرنا قطعاً جائز نہیں۔اکثر ائمہ اور فقہاء کا یہی مذہب ہے۔البتہ عذر کی نوعیت میں اختلاف ہے۔امام مالک نے تو کیچڑ کی وجہ سے بھی رات کی نمازیں جمع کرنے کا فتویٰ دیا ہے اور حضرت ابن عباس نے جو اس روایت کے راوی ہیں، ایک دفعہ بصرہ میں نماز عصر کے بعد تقریر شروع کی جو مغرب کے بعد ختم ہوئی تو انہوں نے وہ نمازیں اکٹھی پڑھائیں تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارہ میں عملی سہولت کی سنت کا احیاء ہو۔(مسلم کتاب صلاة المسافرين وقصرها باب الجمع بين الصلاتين في الحضر) ایسا ہی حضرت ابن عمرؓ سے متعلق بھی مروی ہے کہ اگر انہیں حکام کو مغرب اور عشاء کے درمیان اکٹھا کرنے کا اتفاق ہوتا تو پھر نمازیں جمع کرتے۔اس لیے ائمہ کی ایک جماعت نے حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا روایت کی بناء پر یہ فتویٰ دیا ہے کہ مطلق کسی صحیح ضرورت کے پیش آنے پر نمازیں حضر میں بھی جمع کی جاسکتی ہیں اور یہ فتویٰ اس عملی سہولت کے عین مطابق ہے جو شارع اسلام علیہ الصلوۃ و السلام نے تمام احکامِ شریعت کے نفاذ میں ملحوظ رکھا ہے۔یہ باب بھی امام بخاری کے حسن تصرف کی ایک بین مثال ہے۔اس میں عنوان باب کو کسی عذر یا سبب سے مقید نہیں کیا ہے کیونکہ ضرورتوں اور مجبوریوں کی نوعیت مختلف حالات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ جمع کی صرف یہی صورت تسلیم کرتے ہیں کہ ظہر یا مغرب اپنے وقت کے آخری حصہ میں پڑھی جائے جبکہ ایک سے فارغ ہونے پر دوسری کا وقت شروع ہو جائے۔ان کے نزدیک یہ روایتیں صرف اس قدر بتاتی ہیں کہ آپ نے ایسا بھی کیا تھا مگر اس بارہ میں آپ کے صریح ارشاد کا پتہ نہیں۔ایک فعل کئی قسم کے احتمال اپنے ساتھ رکھ سکتا (مسلم۔كتاب صلاة المسافرين وقصرها۔باب الجمع بين الصلاتين في الحضر) (نسائی، کتاب المواقيت باب الجمع بين الصلاتين في الحضر) ☆