صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 639 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 639

صحيح البخاری جلد ا ۶۳۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة جَلِيْسَهُ وَيَقْرَأُ فِيْهَا مَا بَيْنَ السِّيِّينَ نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔ إِلَى الْمِائَةِ وَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھا کرتے اور اسی الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَأَحَدُنَا يَذْهَبُ طرح عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجَعَ وَالشَّمْسُ (عصر پڑھ کر)۔ پڑھ کر مدینہ کے پر لے کنارے جاتا پھر وہ لوٹ آتا اور سورج ابھی روشن ہوتا اور میں بھول گیا حَيَّةٌ وَنَسِيْتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَلَا ہوں جو حضرت ابو برزہ) نے مغرب سے متعلق کہا يُبَالِي بِتَأْخِيْرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ تھا اور آپ رات کی تہائی تک عشاء میں تاخیر کرنے ثُمَّ قَالَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ وَقَالَ مُعَاذَ کی پرواہ نہ کرتے۔ پھر (ابو منہال نے) کہا: رات قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ کے نصف تک اور معاذ نے کہا: شعبہ کہتے تھے: میں اللَّيْلِ۔ اطرافه ٥٤٧، 568، 599، 771۔ ان (ابو منہال ) سے ایک دفعہ ملا تو انہوں نے کہا: رات کی تہائی تک ۔ ٥٤٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنِ ۵۴۲: محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ ہمیں عبداللہ نے بتایا، کہا: خالد بن عبدالرحمن نے أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہمیں بتایا کہ غالب قطان نے مجھ سے بیان کیا۔ حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَكْرِ بْنِ انہوں نے بکر بن عبداللہ مزنی سے، بکر نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ انس بن مالک سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللَّهِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ نمازیں پڑھتے تو ہم گرمی سے بچنے کے لئے اپنے سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتَّقَاءَ الْحَرِّ۔ کپڑوں پر سجدہ کرتے۔ اطرافه: ۳۸۵، ۱۲۰۸ استثنائی حالت بیان کرنے کے بعد ظہر کا ابتدائی وقت بتانے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے گان كَانَ النَّبِيُّ تشریح : صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلَّى يا لها جرة ، الهاجره دو پر کوکہتے ہیں جب لوک گرمی کی وجت لی با کاج چھوڑ کر آرام کرتے ہیں۔ عنوان باب میں حضرت جابر بن عبداللہ کا حوالہ باب کا اصل مقصد واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ عام حالات میں جبکہ گرمی معتدل ہو آپ کی عادت یہی تھی کہ آپ ظہر کے ابتدائی حصہ میں نماز پڑھا کرتے