صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 634
صحيح البخاری جلد ا ۶۳۴ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة : :٥٣٨ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ :۵۳۸ ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ میرے باپ نے ہمیں بتایا، کہا: اعمش نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ بیان کیا، (کہا: ) ابو صالح نے ہمیں بتایا: حضرت قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوسعید سے مروی ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ أَبْردُوْا بِالظُّهْر فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرَ مِنْ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر ٹھنڈے وقت میں فَيْحِ جَهَنَّمَ تَابَعَهُ سُفْيَانُ وَيَحْيَى پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت بھی جہنم کی ایک لپٹ ہے۔وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ۔اور سفیان اور سکی اور ابوعوانہ نے بھی اعمش سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بیان کیا۔طرفه: ٣٢٥٩۔تشریح پابندی اوقات سے متعلق تمہیدی ابواب قائم کرنے کے بعد استثنائی حالات کولیا ہے جن میں نماز وقت کے اندر آخر وقت میں پڑھی جا سکتی ہے۔اُن میں سے ایک استثنائی حالت شدت گرمی ہے۔اس میں نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا ارشاد ہے کیونکہ سخت گرمی میں طبیعت پریشان و بے قرار ہوتی ہے اور ذہن میں وہ سکون و اطمینان نہیں ہوتا جو نماز کے کے لیے ضروری ہے۔حَتَّى رَأَيْنَا فَي التلُولِ ( روایت: ۵۳۵): روایت نمبر ۵۳۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤذن نے حکم کی تعمیل میں کچھ دیر انتظار کیا اور ایک حد تک گرمی کی حدت میں تخفیف دیکھ کر پھر آذان دینی چاہی تو آپ نے اُسے پھر روک دیا۔جس پر اور انتظار کیا گیا۔یہاں تک کہ ٹیلوں کے سائے دیکھے گئے۔کتاب الاذان (باب الاذان للمسافر۔روایت نمبر ۶۲۹) میں یہ روایت ایک اور سند سے بھی نقل کی گئی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: حَتَّی سَاوَى الظُّلُّ التَّلُولَ یعنی سائے ٹیلوں کے برابر ہو گئے۔تل ایسے ٹیلے کو کہتے ہیں جوز مین پر پھیلا ہوا ہو۔اُس کی چوٹی اونچی نہیں ہوتی اس لیے اس کا سایہ جلدی ظاہر نہیں ہوتا۔یہ روایت ٹھنڈے وقت کا ایک موٹا اندازہ بتانے کے لیے لائی گئی ہے۔تین چار بجے کے درمیان کا وقت معلوم ہوتا ہے۔روایت نمبر ۵۳۷ (فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرَ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ) کا مفہوم واضح کرنے کے لیے لائی گئی ہے۔اس باب میں دومختلف روایتیں (۵۳۶-۵۳۷) اکٹھی ( ایک سند سے ) نقل کی گئی ہیں جو حضرت ابو ہریرہ سے علیحدہ علیحدہ مروی ہیں۔كتاب بدء الخلق باب صفة النار روایت نمبر ۳۲۶۰ میں وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا کی جو روایت حضرت ابو ہریرۃا سے منقول ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کسی اور موقع پر فرمائی تھی۔یہاں پر فَيْحِ جَهَنَّمَ کی وضاحت کرنے کے لیے بطور تعلیق (یعنی بطور حوالہ ) نقل کی گئی ہے۔جہنم کی تشریح اپنے موقع پر کی جائے گی۔علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں آگ کے شکوہ سے متعلق مختلف اقوال نقل کرتے ہوئے علامہ بیضاوی کی رائے کا