صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 633
صحيح البخاری جلد ا ۶۳۳ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة کرتے تے : ہوئے سنا۔ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍ قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ وہب کو حضرت ابوذر سے روایت کے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ انہوں نے کہا بی صلی اللہ علیہ وسلم کے موذن نے ظہر کے وقت اذان دی تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈ ہونے دو، فَقَالَ أَبْرِدْ أَبْرِدْ أَوْ قَالَ انْتَظِرُ انْتَظِرُ ٹھنڈ ہونے دو۔ یا فرمایا: انتظار کرو، انتظار کرو۔ اور وَقَالَ شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا فرمایا کہ گرمی کی شدت بھی جہنم کی ایک لیٹ ہے اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوْا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى جب گرمی شدت کی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت پڑھو۔ رَأَيْنَا فَيْءَ التُلُوْلِ۔ اطرافه ٥٣٩، ٦٢٩، ٣٢٥٨۔ ( ہم نے انتظار کیا) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔ ٥٣٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۵۳۶: علی بن عبداللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنَ کیا ، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم برید الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ نے زہری سے نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی ہے۔ وہ سعید بن أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مسیب سے، سعید حضرت ابوہریرہ سے، حضرت وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ آپ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھ لیا کرو۔ کیونکہ گرمی کی سختی بھی جہنم کی جَهَنَّمَ۔ طرفه ٥٣٣ لپٹ ہے۔ ٥٣٧: وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ۵۳۷ اور آگ نے اپنے رب کے پاس شکایت فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا کی اور کہا: اے میرے رب میرا ایک حصہ دوسرے فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشَّتَاءِ حصہ کو کھا گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو دو وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَهُوَ أَشَدُّ مَا سانسوں کی اجازت دی۔ ایک سانس موسم سرما میں تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ اور ایک سانس موسم گرما میں اور یہ سانس سخت ترین گرمی ہے جو تم محسوس کرتے ہو اور سخت ترین سردی مِنَ الزَّمْهَرِيرِ۔ طرفه ٣٢٦٠ ہے جو تم محسوس کرتے ہو۔