صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 635
البخارى- جلد ا ۶۳۵ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اظہار بایں الفاظ کیا ہے: رَبَّحَ البَيْضَاوِيُّ حَمْلَهُ عَلَى الْمَجَازِ فَقَالَ شَكْوَاهَا مَجَازٌ عَنْ غَلَيَائِهَا وَأَكْلُهَا بَعْضُهَا بَعْضًا مَجَازُ عَنِ ازْدِحَامِ أَجْزَائِهَا وَتَنَفَّسُهَا مَجَا زَعَنْ خُرُوجِ مَا يَبْرُزُ مِنْهَا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۲۶) یعنی مذکورہ بالا الفاظ میں حقیقت بصورت مجاز بیان کی گئی ہے۔آگ کی شکایت سے مراد اس کا جوش و خروش ہے اور اس کے ایک حصہ کا دوسرے کو کھانے سے مراد وہ تلاطم ہے جو اس کے اجزاء میں پیدا ہوتا ہے اور سانس لینے سے مراد انتشار حرارت ہے۔نفس کے معنی باہر پھینکنا۔(لسان العرب تحت لفظ نفس ) یہ تشریح بہت حد تک معقول ہے جو امر واقعہ پر مبنی ہے جس کا مشاہدہ ہم ہر روز کرتے ہیں۔مجازی پیرا یہ بیان سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔حقیقت ہوتی ہے تو مجاز کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔یہ سارا عالم ان عناصر کا ایک مظاہرہ ہے جو نہایت عظیم الشان طاقتیں ہیں۔ان میں سے ہر عنصر بالطبع اپنے دائرہ حدود سے نکلنا چاہتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ان عناصر کی روک تھام کا کوئی انتظام نہ کرتا تو ایک آنکھ کی جھپک میں اگل بَعْضِی بَعْضًا کا تما شا ہم دیکھ لیتے۔ان عناصر کو بے حد طاقتیں بخش کر رب العالمین نے ان کے جکڑنے کا ایسا انتظام فرما دیا ہے کہ وہ مفید صورت میں کام کر رہی ہیں اور یہ قادرانہ تصرف ثبوت ہے رب العالمین کی ہستی کا تفصیل کے لیے دیکھئے: (سرمہ چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۱۷ تا ۱۴۸) ( اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۵ - حاشیه صفحه ۸۵-۸۷) عناصر میں سے آگ وہ عصر ہے جس میں ہم سب سے زیادہ تلاطم پاتے ہیں۔اس کا ایک مظہر تو ہماری مختلف قسم کی آگئیں ہیں اور دوسرا مظہر یہ سورج ہے اور تیسرا مظہر وہ طبقہ بشر ہے جسے جان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔فرماتا ہے: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (الرحمن: (۱۶) یعنی جان کو آگ کے ایسے شعلے سے پیدا کیا ہے جو بھڑکنے والا ہے یعنی اُن کی ایسی سرشت ہے جس میں مشتعل ہونے کا مادہ پایا جاتا ہے۔اس طبقہ ناری کی آگ کے مظاہر خود بنی نوع بشر میں موجود ہیں جن کی ناری سرشت نے آگ کی نہایت خطرناک صورتیں ظاہر کی ہیں اور آج ہمارے زمانے میں اس آگ کا ظہور اُن جنگوں میں ظاہر ہو چکا ہے جو آگ کے ذریعے سے لڑی جاتی ہیں اور آكُل بَعْضِی بَعْضًا کا مصداق ہیں۔افراد بشری میں بھی جب قوت غصبیہ کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے تو ان کا نفس بھی اگل بَعْضِی بَعْضًا کا ایک نظارہ پیش کرتا ہے جب وہ غیظ و غضب میں غلطاں و پیچاں ہوتا ہے۔ایک فرد کی یہ حالت بھی اگل بَعْضِی بَعْضًا کا مصداق ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی صداقت ان مختلف مظاہر میں عیاں ہے۔اس ہنگامہ آرا تلاطم کا ظہور سوائے اُس تصادم و انتشار حرارت کے اور ہمیں نظر نہیں آتا اور یہ ایک طبعی انتظام ہے جس کے ذریعہ سے حرارت ادھر اُدھر تقسیم ہوتی رہتی ہے اور اس حکیمانہ تقسیم سے خالق نے مخلوق کو اُس کے مضرات سے محفوظ اور فوائد سے متمتع فرمایا ہے۔اس انتشار میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ جو ہمیں ملتا ہے اس کا ایک ظہور تو موسم گرما میں ہوتا ہے جو بصورت افراط ظاہر ہوتا ہے اور ایک ظہور موسم سرما میں ہوتا ہے جو بصورت تفریط ظاہر ہوتا ہے جبکہ سورج کی گرمی کا انتشار ہماری طرف کم کر دیا جاتا ہے جس سے سخت سردی ہوتی ہے۔یہ دونوں مظاہرے آگ کے عصر کے ساتھ وابستہ ہیں جو ہمارا مشاہدہ ہے۔اگر اس عصر کے