صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 622 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 622

البخاری جلد ا ۶۲۳ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَى عَنِ مال تم حاصل کرو اُس کا پانچواں حصہ مجھے دینا اور میں الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيْرِ ( تم کو ) کدو کے تو نے اور لاکھے برتن اور روغنی رال والے برتن اور چوبی برتن سے منع کرتا ہوں۔اطرافه ،۵۳ ، ،۸۷، ۱۳۹۸، ۳۰۹۵، ۳۵۱۰، ٤٣٦٨ ٤٢٦٩، ٦١٧٦، ٧٢٦٦، ٧٥٥٦۔تشریح: أَقِيْمُوا الصَّلوةَ: یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے خاص وقت مقرر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ تمام اوقات عبادت کے لیے موزوں اور مناسب ہیں۔انسان کا جب دل چاہے اس کی عبادت میں مشغول ہو جائے۔یہ درست ہے بلکہ اُس کی یاد تو کسی وقت بھی نہیں بھولنی چاہیئے۔یہی منشاء اور حکم قرآن مجید کا ہے: وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحُ وَأَطْرَافِ النَّهَارِ (طه: ۱۳۱) رات کی گھڑیوں میں بھی اور دن کے مختلف حصوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔اور فرماتا ہے: فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلوةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِكُمُ (النساء:۱۰۴) یعنی جب تم نماز پڑھ چکو تو پھر اللہ تعالیٰ کو اُٹھتے بیٹھتے اور اپنی کروٹوں کے بل یاد کرتے رہو۔گو یا نماز ذکر الہی کی دائمی کیفیات پیدا کرنے کے لیے بطور ایک مشق اور تمہید کے ہے۔قرآنِ مجید میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انفرادی عبادت کے لیے جسے ذکر الہی کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے کوئی خاص وقت نہیں۔بلکہ اس میں ہر وقت مشغول رہنے کی ہدایت اور ترغیب دی گئی ہے۔مگر اجتماعی عبادت کے لیے جس کا نام الصلوۃ ہے خاص وقت مقرر کئے گئے ہیں جن کی پابندی کے بغیر یہ نماز مقبول نہیں ہوتی اور وقت کی پابندی کا حکم انسان کی فطرت کو ملحوظ رکھ کر دیا گیا ہے کیونکہ انسان بغیر پا بندی وقت عبادت کیا کوئی کام بھی سرانجام نہیں دے سکتا۔شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی شعبہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انسان اس بات کا فطرتاً محتاج ہے کہ وہ قواعد اور وقت کی پابندی کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک معین راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرے ورنہ وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔روحانی جادہ ترقی پر گامزن ہونے کے لیے بھی ہم اسی قانون کے محتاج ہیں اس فطرتی تقاضا کو ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عبادت میں بھی اوقات کا پابند فرمایا ہے تا ہمارے اندر ذکر الہی کی لذت آمیز روحانی کیفیات دائمی طور پر پیدا ہو جائیں۔جیسا کہ ارشاد اقسم الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه: ۱۵) سے واضح ہوتا ہے۔اجتماعی عبادت کے ساتھ اوقات کی پابندی کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ تمام افرادِ امت کو ایک ہی وقت میں اپنی روحانی اور مادی اصلاح کے لیے ربّ العالمین کے حضور سوز و گداز سے مناجات کرنے کا موقع ملے اور ان کی مشترکہ دعا و ابتہال میں قوت و برکت پیدا ہو کر اس کو اللہ تعالیٰ کے حضور پذیرائی حاصل ہو اور اس سے افراد کی معنویات میں بھی اتحاد اور یک جہتی پیدا ہو جو عبادت کے لیے بھی ایسی ہی ضروری شے ہے جیسے ہر اجتماعی کام کے لیے۔ہماری نماز بھی ایک اجتماعی عبادت ہے جیسا کہ اس کی دعا سورہ فاتحہ کے صیغہ ہائے جمع اور ان کے معانی سے ظاہر ہے اور اگر اوقات کی پابندی نہ ہوتی تو یہ کام بھی اجتماعی شکل میں ظہور پذیرنہ ہوسکتا بلکہ ایک تفرقہ کی صورت نظر آتی۔فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق اس جگہ لفظ انھکم ہے (فتح الباری جزء دوم حاشیہ صفحہ ۱۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے