صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 623 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 623

صحيح البخاری جلد ا ۶۲۳ - كتاب مواقيت الصلوة اسلام ایک عملی دین ہے اور اس نے عملی سہولت پیدا کرنے کے لیے اپنے اصول کی بنیا د فطرتی تقاضے پر رکھی ہے۔ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لیے امام بخاری نے کتاب مَوَاقِيتُ الصَّلوة کے دوسرے باب کا عنوان ایک جامع آیت سے قائم کیا ہے اور وہ یہ ہے : فَأَقِمِ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ، ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ، وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَ أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ) مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوْا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ، كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (الروم: ۳۱-۳۳) لا پس ( اللہ کی طرف ) ہمیشہ مائل رہتے ہوئے اپنی توجہ دین پر مرکوز رکھ۔ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ۔ یہ قائم رکھنے والا اور قائم رہنے والا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ ہمیشہ اس کی طرف جھکتے ہوئے (چلو) اور اس کا تقویٰ اختیار کرو۔ اور نماز کو قائم کرو۔ اور مشرکوں میں سے نہ ہو۔ (یعنی) اُن میں سے ( نہ ہو ) جنہوں نے اپنے دین کو تقسیم کر دیا۔ اور وہ فرقہ فرقہ ( ہو چکے ) تھے۔ ہر گروہ (والے) جو اُن کے پاس تھا، اُس پر اترا رہے تھے۔ } مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوہ کے الفاظ عنوان میں نمایاں کئے گئے ہیں تا اسلام کا مقصد اعلیٰ واضح طور پر سامنے آجائے۔ انابت الی اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور بار بار جھکتا اور وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّ قُوْا دِينَهُمْ یعنی ہر تم کے شرک اور تفرقہ سے خالی ہونا۔ الصَّلوةُ مشتق ہے صَلايَة ہے۔ جس کے معنی ہیں آگ میں پڑنا۔ اشتقاق کے لحاظ الصلوۃ کے معنے سوز و گداز کے ہیں۔ یہ لفظ دعا کے معنوں میں اسی لیے استعمال ہوتا ہے کہ دعا میں بھی سوز و گداز ہوتا سے ہے۔ اس عظیم الشان عنوان توحید اور وحدت کے مطابق جو حدیث با یث پیش کی گئی ہے، اس میں ایمان باللہ کی تی باللہ کی تشریح ہے یعنی شرک باری تعالیٰ کی نفی ، توحید باری تعالیٰ کا اقرار، ایمان بالرسول اور نماز کی پابندی اور زکوۃ و صدقات کی ادائیگی سب کو ایمان میں شامل کیا گیا ہے۔ گویا نماز کا قیام ایمان لیا ہے۔ گویا نماز کا قیام ایمان باللہ کی ضروری جزء ہے۔ کیونکہ ایمان باللہ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کو اپنا معبود یقین کرنا اور یہ یقین عبادت کو مستلزم ہے اور یہ عبادت انہی اصولوں کے مطابق قائم کی جانی چاہیئے جن کا تقاضا فطرت بشر یہ کرتی ہے۔ غرض اسلام نے اپنے تمام احکام میں فطرت کے اصول ہی مد نظر رکھتے ہیں۔