صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 615
البخاری جلد ) ۶۱۵ ٨- كتاب الصلوة تشریح: اس باب کے قائم کرنے سے یہ مسئلہ ثابت کرنا مقصود نہیں کہ آدمی نماز پڑھتے ہوئے اپنی بیوی کو دبائے یا نہ دبائے بلکہ سابقہ مسائل میں صرف استفتاء کی صورت کو واضح کرنا مد نظر ہے۔حضرت امامہ کا اٹھانا کسی خاص ضرورت کے ماتحت تھا۔سو جیسے اس واقعہ میں مسئلہ کی نوعیت محدود صورت رکھتی ہے ایسا ہی دیگر امور میں بھی۔نیز ایک اور مثال دی گئی ہے جس میں نماز پڑھنے والے کی توجہ میں کم وبیش فرق پڑ سکتا ہے۔جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے سامنے سے لیٹا ہوا آدمی اپنے پاؤں سکیٹر لے تا وہ سجدہ کر سکے اور اس غرض کے لیے وہ اس کے پاؤں کو دباتا ہے اس کی توجہ ایک لمحہ بھر کے لیے نماز سے بٹے گی مگر باوجود اس کے اُس کی نماز میں فرق نہیں آتا۔هَلْ يَغْمِرُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ عِنْدَ السُّجُودِ : باب کے عنوان کو استفتاء کی صورت میں پیش کر کے در حقیقت اُن فقہاء کو ایک جواب دیا ہے جو عمل قلیل اور عمل کثیر کی فضول بحثوں میں جاپڑے ہیں اور بات بات پر مسئلہ بنادیا ہے۔سابقہ باب میں حائضہ سے کپڑا چھونے اور نماز میں خلل نہ آنے کا ذکر تھا اور اس باب میں عورت کے بدن کو چھونے کا ذکر ہے۔یعنی اس کے سامنے ہونے سے نماز کا ٹوٹنا تو درکنار، اس کو چھونے سے بھی نماز نہیں ٹوٹتی۔اس ضمن میں روایت نمبر ۵۱۹ کے یہ الفاظ قابل غور ہیں۔قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُوْنَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ عورتوں کے متعلق یہی زعیم باطل رڈ کرنے کی خاطر اس سے پہلے باب ۱۰۵ ۱۰۶ ۱۰۷ قائم کیے گئے ہیں۔غمز کے معنے آنکھ سے اشارہ کرنا یا ہاتھ سے خفیف ساد بانا۔بَاب ١٠٩: اَلْمَرْأَةُ تَطْرَحُ عَنِ الْمُصَلَّيْ شَيْئًا مِنَ الْأَذَى عورت نماز پڑھنے والے سے پلیدی اُتار کر پھینک دے ٥٢٠: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ۵۲۰ ہم سے احمد بن اسحاق سرماری نے بیان کیا، السُّرَّمَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ کہا : عبد الله بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيْلُ عَنْ أَبِي اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے عمرو بن موسى إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ میمون سے ، عمرو نے حضرت عبد اللہ سے روایت اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا:ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے قریب کھڑے نماز وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمْعُ پڑھ رہے تھے اور قریش کا ایک گروہ مجلس لگائے قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ ہوئے تھا۔اتنے میں ان میں سے کسی کہنے والے نے أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى هَذَا الْمُرَائِي أَيُّكُمْ کہا: کیا تم اس ریا کار کو نہیں دیکھتے ؟ تم میں سے کون