صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 607
صحيح البخاري - جلد ) - كتاب الصلوة الرَّجُلِ۔ حضرت زید بن ثابت نے کہا ہے کہ میں نے تو پرواہ نہیں کی کیونکہ آدمی آدمی کی نماز نہیں توڑتا ۔ ٥١١: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيْلٍ ۵۱۱ ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا کہ ہمیں حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ علی بن مسہر نے اعمش سے اور اعمش نے مسلم یعنی صبیح عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحِ عَنْ کے بیٹے سے۔ انہوں نے مسروق سے ہمسروق نے مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ فَقَالُوْا يَقْطَعُهَا حضرت عائشہ کے پاس اُن چیزوں کا ذکر کیا گیا جو الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ قَالَتْ لَقَدْ نماز کو توڑتی ہیں تو لوگوں نے کہا کہ اسے کتا اور گدھا جَعَلْتُمُوْنَا كِتَابًا لَّقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اور عورت توڑتے ہیں تو حضرت عائشہ نے کہا تم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ تو ہمیں کتے بنا دیا۔ میں نے خود نبی علیہ السلام کو دیکھا الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ کہ آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان ہوتی اور چار پائی پر لیٹی ہوتی اور مجھے کوئی فَتَكُوْنُ لِيَ الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ حاجت ہوتی تو میں ناپسند کرتی کہ آپ کے سامنے فَأَنْسَلُ انْسِلَالًا وَّعَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ہوں۔ اس لیے میں آہستگی سے سرک کر نکل جاتی ۔ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ اور ( علی بن مسہر نے ) اعمش سے، اعمش نے ابراہیم نَحْوَهُ۔ سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ سے اسی طرح روایت نقل کی ۔ اطرافه ۳۸۲، ٣٨٣، ٣٨٤، 508، 513، 513، 514، 515، 519، ۹۹7، ١٢٠٩، ٦٢٧٦۔ تیچ: باب دکور یہ دانش کرنے کے لیے باندھا گیا ہے کہ آدمی کا نمازی کے سامنے ہوتافی ذاتہ کوئی بری بات نہیں بلکہ کراہیت کی اصل وجہ یہ ہے کہ نمازی کے سامنے اس کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونے سے ممکن ہے کہ اس کی توجہ بٹ جائے۔ حضرت عثمان اور اور حضرت زید بن ثابت کے قول کا ۔ کا حوالہ دے کر باب کا باب کا مقصد واضح کر دیا گیا ہے۔ حوالوں کی تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۵۸ اور عمدۃ القاری جز ۴۶ صفحہ ۲۹۵۔ إِنَّ الرَّجُلَ لَا يَقْطَعُ صَلوةَ الرَّجُلِ کافتویٰ جنسی اناث پر بھی حاوی ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ۵۱ میں اس کی صراحت ہے۔ عنوان باب میں لفظ رجل یعنی مرد استدلالاً اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی جب عورت کے سامنے ہونے سے