صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 600 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 600

صحيح البخاري - جلد ) ۶۰۰ - كتاب الصلوة اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيْهِ قَالَ وَلَيْسَ بلال نے انہیں خبر دی تھی کہ نبی ﷺ نے وہاں نماز عَلَى أَحَدِنَا بَأْسٌ إِنْ صَلَّى فِي أَيِّ پڑھی تھی۔ کہتے تھے کہ ہم میں سے کسی پر کوئی حرج نَوَاحِيَّ الْبَيْتِ شَاءَ۔ نہیں کہ بیت اللہ میں جس طرف چاہے نماز پڑھے۔ تشریح: صلى الله إطرافه ٣٩٧، ٤٦٨، ٥٠٤، ٥٠٥ ، ۱۱٦٧ ، ۱۳۹۸ ، ۱۹۹۹ ، ۲۹۸۸، ٤٢٨٩، ٤٤٠٠۔ ہے اور یہ ماقبل اور مابعد کے بابوں کے درمیان ایک کڑی ہے۔ اس کے ذریعہ سے ان باب ۹۷ بلا عنوان ہے اور یہ مائل اور مابعد چاروں بابوں کے مضمون کو ایک کر دیا گیا ہے۔ اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ بیت اللہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے اندر انسان جدھر چاہے منہ کر کے نماز پڑھے۔ مگر باوجود اس کے نبی ﷺ کا طریق عمل یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دیوار سے تین ہاتھ۔ تھ کے فاصلہ پر کھڑے ہو کر اور اسے سامنے رکھ کر نماز پڑھی۔ جیسا کہ حضرت ع عبداللہ بن عمر کی روایت اور ان کے عمل سے واضح ہوتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ اس خاص دیوار کو قبلہ سمجھتے تھے۔ ایسا ہی مدینہ میں بھی آپ ستون کے سامنے نماز پڑھتے تھے۔ اس لئے نہیں کہ وہ ستون قبلہ کا قائم مقام تھا۔ غرض ان پانچوں بابوں سے عبدالرزاق کی روایت کا رد کرنا مقصود ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ۵۰۶ کے آخری الفاظ نفس مضمون پر بالتصریح دلالت کرتے ہیں۔ بَاب ۹۸ : الصَّلَاةُ إِلَى الرَّاحِلَةِ وَالْبَعِيْرِ وَالشَّجَرِ وَالرَّحْلِ سواری اور اُونٹ اور درخت اور کجاوے کی طرف نماز پڑھنا ٥٠٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ :۵۰۷ : ہم سے محمد بن ابو بکر مقدمی (بصری) نے الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ بیان کیا ، (کہا) معتمر ( بن سلیمان ) نے ہمیں بتلایا۔ نے نافع عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ انہوں نے عبید اللہ بن عمر ) سے عبید اللہ نے : سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے ، حضرت ابن عمر النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ صلى الله سواری کو نے نبی ﷺ کے متعلق بیان کیا کہ آپ اپنی سوار يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا قُلْتُ اپنے سامنے چوڑائی میں بٹھا لیتے اور پھر اس کے أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ قَالَ كَانَ بالمقابل نماز پڑھتے ۔ میں نے کہا: بھلا بتلائیں تو سہی يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى جب سواری کھڑی ہو جاتی ( تو کیا کرتے؟) انہوں آخِرَتِهِ أَوْ قَالَ مُؤَخَّرِهِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ نے کہا: کجاوے کو لیتے اور اُسے ٹھیک کر کے سامنے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ۔ طرفه: ٤٣٠ رکھ لیتے۔ پھر اس کی پچھلی لکڑی کی طرف یا کہا اس کے پچھلے سرے کی طرف نماز پڑھتے ۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔