صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 601
البخاري - جلد ) صحیح ۶۰۱ بَاب۹۹: الصَّلَاةُ إِلَى السَّرِيْرِ چار پائی کے سامنے نماز پڑھنا ٨- كتاب الصلوة ٥٠٨ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۵۰۸ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ جریر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے أَعَدَلْتُمُوْنَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: کیا تم رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ نے ہمیں کہتے اور گدھے کے برابر کر دیا ہے؟ میں فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں چار پائی پر لیٹی ہوتی فَيَتَوَسَطُ السَّرِيرَ فَيُصَلِّي فَأَكْرَهُ أَنْ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور چار پائی کے سامنے أَسْتَحَهُ فَأَنْسَلُ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ درمیان میں کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے اور میں حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي۔اسے ناپسند کرتی کہ آپ کے سامنے رہوں تو میں چار پائی کے پاؤں کی طرف سے سرک کر اپنے لحاف میں سے آہستہ سے نکل جاتی۔اطرافة: ۳۸۲، ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۱۱، ۵۱۲، ۰۱۳، ۵۱، ۵۱۵، ۵۱۹، ۹۹۷، ١٢۰۹، ٦٢٧٦۔تشریح: کجاوا اور بنایا گیا تھا لئے ستون سواری اونٹ درخت کجاوا اور چار پائی کو جوسترہ بنایا گیا تھا تو اس لئے نہیں کہ یہ چیزیں قبلہ کا قائم مقام تھیں۔سترہ کی غرض وغایت ہی اور ہوتی ہے۔باب ۹۹٬۹۸ کے قائم کرنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی ہے کہ ایسی روایتیں بھی نقل کی گئی ہیں جن سے اونٹ یا جانور یا عورت کے سامنے نماز پڑھنے کی ممانعت ظاہر ہوتی ہے۔مگر بعض حالات میں مجبوری ہوتی ہے کہ نماز ادھر اُدھر ہو کر نہیں پڑھی جاسکتی۔مثلا کمرہ تنگ ہے یا چار پائی سامنے ہے جس پر بیوی لیٹی ہوئی ہے یا سفر کی حالت میں ہے۔لوگوں کا ادھر اُدھر سے گزر ہے تو کوئی حرج نہیں کہ اپنی سواری یا کسی درخت کی آڑ لے کر نماز پڑھی جائے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۵۰-۷۵۱) نیز اس ضمن میں دیکھئے باب ۱۰۵۱۰۴۔