صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 599
البخاری جلد ) ۵۹۹ - كتاب الصلوة لَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ وَّقَالَ ستونوں پر تھا۔پھر آپ نے نماز پڑھی اور اسماعیل نے ہم سے کہا: مالک نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ عَمُوْ دَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ۔آپ نے دوستونوں کو اپنی دائیں طرف رکھا۔اطرافه: ٣٩٧، ٤٦٨، ٥٠٤، ٥٠٦، ۱۱٦٧، ۱۵۹۸، ۱۵۹۹، ۲۹۸۸، ٤٢٨٩، ٤٤٠٠۔تشریح اس باب کا مقصد ہے کہ سابقہ باب سے میہنہ سمجھا جائے کہ ستونوں کے درمیان نماز پڑھنا جائز نہیں۔آپ نے تنہائی کے وقت ان کے درمیان بھی نماز پڑھی۔وہ احتیاط جس کا ذکر ابھی باب ۹۴ کے ضمن میں کیا گیا ہے۔اس وقت کے لئے مخصوص ہے جب لوگ باجماعت نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں جمع ہوں اور آنے جانے والے کے لئے گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اگر ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی جائے۔نیز باجماعت نماز کی حالت میں اس سے صف بھی ٹوٹ جاتی ہے۔امام بخاری کو اس باب کے قائم کرنے کی ضرورت اس لئے بھی پیش آتی ہے کہ بعض ایسی روایات مشہور ہو چکی تھیں۔جن سے ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کی قطعی ممانعت پائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ یہ بھی ایک روایت ہے کہ یہ ممانعت اس لئے تھی کہ ستونوں کے درمیان کی جگہ جنوں کی نماز گاہ ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۷۴۷ ) امام موصوف کو ایسی روایتوں کا رد کرنا بھی مقصود ہے۔روایت نمبر ۵۰۴ کے آخر میں امام مالک کی روایت کے حوالہ سے اس اشکال کو دور کیا گیا ہے کہ جب بیت اللہ کے چھ ستون تھے تو آپ کے ایک طرف دوستون ہونے چاہئیں نہ کہ ایک۔روایت نمبر ۵۰۵ میں دوستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔تعداد شماری مقصود نہیں۔باب ۹۷ ٥٠٦: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۵۰۶ ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابو ضمرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: موسیٰ بن عقبہ نے مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ نافع سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ عبدالله جب کعبہ میں داخل ہوتے تو داخل ہوتے وَجْهِهِ حِيْنَ يَدْخُلُ وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ وقت سیدھے سامنے کو جاتے اور دروازے کو اپنی پیٹھ ظَهْرِهِ فَمَشَى حَتَّى يَكُوْنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ کے پیچھے رکھتے اور چلے جاتے ، یہاں تک کہ اُن کے الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيْبًا مِنْ اور اس دیوار کے درمیان جو کہ ان کے منہ کے سامنے ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ صَلَّى يَتَوَخَّى الْمَكَانَ ہوتی تقریباً تین ہاتھ رہ جاتے ؛ وہاں نماز پڑھتے۔الَّذِي أَخْبَرَهُ بِهِ بِلَال أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اس جگہ کا قصدا رخ کرتے جس کے متعلق حضرت