صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 582 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 582

صحيح البخاري - جلد ) ۵۸۲ - كتاب الصلوة الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ ذُو الْيَدَيْنِ کہا جاتا تھا۔ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُوْلٌ يُقَالُ آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے۔ فرمایا: میں بھولا لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ نہیں اور نہ کم کی گئی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا ایسا ہی ہے جیسا ذُو الْيَدَيْنِ کہتا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں ۔ اس أَنَسِيْتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ قَالَ لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ قَالَ أَكَمَا يَقُولُ آپ آگے بڑھے اور جو رکعت ) ، ) آپ نے چھوڑی تھی، اسے پڑھا۔ پھر آپ نے سلام پھیرا اور اللهُ أَكْبَرُ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالُوْا نَعَمْ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا کہا اور جس طرح آپ سجدہ کیا کرتے تھے اسی طرح یا تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ اس سے لمبا سجدہ کیا۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور الله سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ اَكْبَرُ کہا۔ پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا اسی ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ طرح جس طرح آپ سجدہ کیا کرتے تھے یا اُس سے أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ فَرُبَّمَا لمبا۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔ کئی بار لوگوں نے (ابن سیرین سے ) پوچھا کہ کیا پھر آپ نے سَأَلُوْهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُوْلُ نُبِنْتُ أَنَّ سلام پھیرا؟ تو وہ (یہی) کہتے : مجھے بتلایا گیا کہ حضرت عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثُمَّ سَلَّمَ۔ عمران بن حصین نے کہا کہ پھر آپ نے سلام پھیرا۔ اطرافه: ۷۱٤، ۷۱۵ ۱۲۲۷، ۱۲۲۸، ۱۲۲۹، 6051، ٧٢٥٠۔ اور سیح: بعض وقت امام بخاری ایک باب کسی مسلہ کے جواز یا عدم جواز ثابت کرنے کے لئے نہیں بلکہ کی اور مضمون کی طرف توجہ دلانے - رف توجہ دلانے کے لئے باندھتے ہیں۔ جس کا تعلق نفس مضمون کے ساتھ اتنا نہیں : ہوتا جتنا کہ سابقہ باب کے مضمون کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں شک ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ابوداؤد وغیرہ نے بعض روایتیں ایسی نقل کی ہیں جو بلحاظ سند کمزور ہیں اور جن میں تشبیک یعنی نیچی کرنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔ (ابوداؤد۔ کتاب الصلاة ۔ باب ماجاء في الهدى في المشي اور امام موصوف نے بھی ضرور ان کمزور روایتوں کو رد کرنے کے لئے یہ باب باندھا ہے مگر وہ اس کے ساتھ اس تفرقہ اور اختلاف کی طرف بھی توجہ دلا رہے ہیں جو جگہ جگہ مسجدیں بنانے کی وجہ سے امت میں پیدا ہو گیا ہے۔ اس باب کی دوسری روایت اس تشبیک کی اصل حقیقت بیان کر رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کو قیچی کر کے بتلایا کہ مومنوں کی جماعت اس مضبوط عمارت کی طرح ہوتی ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے میں پیوست ہو کر اپنے وجود کو مضبوطی ائم رکھتی ہیں۔ پہلی روایت کے الفاظ تا الفاظ تَشْبِی کا اور مفہوم ادا کر ادا کرتے ہیں یعنی لوگ آپس میں گتھم گتھا ہو نگے ۔ ان کے درمیان تفرقہ پڑ جائے گا۔ كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيْتَ فِي حُثَالَةٍ مِّنَ النَّاسِ بِهذا۔ یعنی جب تم روی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے۔ بھذا اس حدیث کے ساتھ۔ یعنی ان کو یہ حدیث سناؤ گے ۔ حُشَالَةٌ کے معنی جو یا گندم کا چوکھر جسے سے قائم