صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 546 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 546

البخارى- جلد ) ۵۴۶ - كتاب الصلوة تبدیلی کا ذکر یہی بتلانے کے لئے کیا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت انس اور حضرت ابن عباس کے اقوال اس امر کے منافی نہیں کہ اردگرد کے ماحول کو مد نظر رکھ کر مسجد کی عمارت میں ضروری تبدیلی کی جائے بلکہ بیل بوٹوں اور تصویروں اور خوشنما مناظر کی سج دھج سے منع کیا گیا ہے۔باب ٦٣ : التَّعَاوُنُ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ مسجد کے بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ أَنْ يَعْمُرُوْا مَسْجِدَ ) اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنُ اللَّهِ شَهِدِيْنَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ يَعْمُرُوا مَسجِد۔۔۔۔) مشرکوں کے شایاں نہیں کہ وہ أُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ = وَفِي النَّارِ الله تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں جبکہ وہ خود اپنے هُمْ خَلِدُونَ ٥ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللهِ بر خلاف کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ان کے عمل مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ تو اکارت گئے اور آگ ہی میں وہ رہنے والے الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا الله ہیں۔اللہ تعالیٰ کی مسجدیں تو وہ آباد کیا کرتے ہیں جو فَعَسَى أُولَبِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ اللہ اور یومِ آخرت کو مانیں اور نماز سنوار کر ادا کریں (التوبة: ۱۷-۱۸) اور زکوۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔امید ہے کہ یہ ہدایت یافتوں میں سے ہوں۔٤٤٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۴۷ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ مختار نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد حذاء نے عکرمہ الْحَدَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسِ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا (وہ کہتے تھے ) وَلِابْنِهِ عَلِي انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيْدٍ کہ حضرت ابن عباس نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: تم دونوں حضرت ابوسعید کے پاس جاؤ اور اُن کی فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيْثِهِ فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي باتیں سنو۔اس پر ہم گئے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ وہ حَائِطٍ يُصْلِحُهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَاحْتَبَى ثُمَّ ایک باغ میں ہیں جس کو وہ درست کر رہے تھے۔أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ انہوں نے اپنی چادر لی اور گوٹھ مار کر بیٹھ گئے پھر ہم الْمَسْجِدِ فَقَالَ كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً سے باتیں کرنے لگے۔جب مسجد کے بنانے کا ذکر