صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 545 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 545

تشریح: البخاري - جلد ا ۵۴۵ ٨- كتاب الصلوة بُنْيَانُ الْمَسْجِدِ : باب ۶۲ بھی اسی غرض کے لئے قائم کیا گیا ہے کہ مسجد میں سادہ بنائی جائیں۔ان میں نقش و نگار نہ ہوں جو نمازی کی توجہ کو بٹائیں۔انسان ظاہر پرستی پر جس قدر زیادہ زور دیتا ہے اسی نسبت سے اس کی توجہ باطن کی طرف سے مدھم پڑتی جاتی ہے۔حضرت انس کے محولہ بالاقول کا یہی مطلب ہے۔ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے بروایت حضرت انس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ۔! یعنی ساعتۃ (قیامت) قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مساجد کے بنانے پر فخر کریں گے۔} لَا يَعْمُرُونَهَا سے مراد یہ ہے کہ ان میں نماز نہیں پڑھیں گے۔خانہ خدا خالی ہوگا۔حضرت ابن عباس کی روایت بھی دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قول کی بناء پر ہے۔(فتح الباری جز ءاول صفحہ ۷۹۸-۱۹۹) حضرت ابوسعید خدری اور حضرت عمر کے حوالوں سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ مسجدیں سادہ ہونی چاہئیں تا کہ اسلامی عبادت کی سادگی اور اس کی اصل روح قائم رہے۔دوسرے دو حوالوں سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ مسلمانوں کے متعلق بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک انذاری پیشگوئی ہے کہ وہ اپنے عبادت خانوں کے بنانے میں یہودیوں اور عیسائیوں کا رنگ ار الله اختیار کریں گے۔ظاہری نمود و نمائش کا شوق ہوگا اور روح حقیقت پرواز کر جائے گی۔چنانچہ یہی فی الواقعہ ہوا۔روایت نمبر ۴۴۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے بھی مسجد میں ایک تبدیلی کی جو مسجدوں کی مطلوبہ سادگی کے منافی تھی۔الْحِجَارَةُ الْمَنْقُوشَةُ سے وہ پتھر مراد نہیں جن پر رنگ دار بیل بوٹوں کا کام کیا ہوتا ہے۔بلکہ کھدوائی کا ساده کام مراد ہے۔اور یہ کام لَتُزَخُرِ فُنَّهَا اور اِيَّاكَ اَنْ تُحَمِرَ اَوْتُصَفِّرَ کا مصداق نہیں۔گو بعض صحابہ نے حضرت عثمان کے اس عمل پر اعتراض کیا تھا جس کا انہوں نے یہ جواب دیا کہ میں نے محض رضائے الہی کی خاطر مسجد بنوائی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۵۰) یہ تعمیر ۳ھ میں ہوئی تھی جبکہ مسلمان دولت سے مالا مال تھے اور وہ پرانی طرز کے مکانوں کی جگہ عمدہ عمارتیں بنوانے لگ گئے تھے۔اس وقت ایک نئی قسم کا تمدن قائم ہو چکا تھا۔شہر کی خوبصورت عمارتوں کے درمیان مسجد کو حقیر حالت میں رہنے دینا مسجد کے آداب و احترام کے خلاف تھا۔حضرت عثمان نے نہ صرف اس لئے کہ اس وقت کے تمدن کا تقاضا تھا بلکہ اس لئے بھی کہ خود مسجد کا احترام بھی یہی تقاضا کرتا تھا کہ اس کو نسبتنا اچھی شکل وصورت میں اور وسیع پیمانہ پر بنایا جائے۔ایک مومن کے جذبات اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ خود تو اچھے مکان میں رہے اور مسجد کو حقیر حالت میں رہنے دے کہ جس میں نمازیوں کو تکلیف ہو اور اس کی مطلوبہ صفائی بھی خاطر خواہ نہ ہو سکے اور دیکھنے والوں پر بھی ایک بُرا اثر پڑے۔شعائر اللہ کی واجبی تعظیم کو نظر انداز کرنے سے آخر نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے بھی جذباتِ احترام مٹ جاتے ہیں۔یہی وہ اندیشہ اور خیال تھا جو حضرت عثمان کے لئے محرک ہوا اور جس کا انہوں نے بایں الفاظ اظہار کیا کہ رضائے الہی کی خاطر یہ کام کیا گیا ہے۔پس ان کی اپنی صراحت کے موجود ہوتے ہوئے اعتراض کرنا درست نہیں اور امام بخاری نے اس باب میں دوسرے حوالوں کی طرف اشارہ کر کے خلفائے راشدین میں سے ایک خلیفہ کی اس (ابوداؤد، في الساباة (ابو داؤد - کتاب الصلوۃ باب في بناء المساجد نمبر ۳۷۹) (نسائی۔کتاب المسجد باب السبابا ة في المساجد نمبر ۶۸۳) (ابن ماجہ۔کتاب المساجد - باب تشیید المساجد - نمبر ۷۳۱) (ابوداؤ در کتاب الصلوۃ باب في بناء المساجد نمبر ۳۷۸) ( ابن ماجہ۔کتاب المساجد - باب تشیید المساجد نمبر ۷۳۲ )