صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 547
البخاری جلد ) ۵۴۷ - كتاب الصلوة وَعَمَّارٌ لَّبِنَتَيْن لَبِنَتَيْنِ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّی آیا تو انہوں نے کہا: ہم ایک ایک اینٹ اُٹھاتے تھے الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ اور حضرت عمار دو دو اینٹیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَيَقُوْلُ وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ انہیں دیکھا اور ان سے مٹی جھاڑتے جاتے تھے اور الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ فرماتے تھے: آہ ! عمار! اسے ایک باغی گروہ قتل کرے وَيَدْعُوْنَهُ إِلَى النَّارِ قَالَ يَقُوْلُ عَمَّارٌ گا۔یہ ان کو جنت کی طرف بلا رہا ہوگا اور وہ اس کو آگ کی طرف بلا رہے ہوں گے۔حضرت عمار یہ دعا أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ۔طرفه: ۲۸۱۲ کیا کرتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔تشریح : التَّعَاوُنُ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ :امام بخاری اور ان کی سرمایہ کاری کی سادہ زندگی میں دکھلا کر یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مسجدوں کی آبادی اور ان کی زیب وزینت ان لوگوں سے تھی کہ جن کے نفسوں میں دنیا کے مال و دولت نے کوئی ایسا تغیر پیدا نہ کیا تھا جو اس آیت کے مضمون کے منافی ہو۔وہ اپنی زندگیوں میں ویسے ہی سادہ تھے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔وہ نمازوں کے بھی اسی طرح پابند تھے۔زکوۃ بھی دیتے تھے علمی مشاغل میں بھی ویسے ہی دلچسپی لیتے تھے۔ان میں کوئی تکبر نہ تھا، غرور نہ تھا۔سادگی ہی سادگی تھی۔اپنے پاک نمونوں کے اس عملی تعاون سے وہ مسجدوں کی آبادی کے باعث تھے۔إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللهِ مَنْ مَنَ بِاللَّهِ (التوبة: (۱۸) سے مراد ظاہری سجاوٹ نہیں جس سے مشرکوں کے عبادت خانے بہتر سے بہتر سجے ہوئے ہوتے ہیں۔بلکہ اس سے وہ روحانی آبادی مراد ہے جس کا ایک نمونہ مسجد نبوی میں نظر آتا ہے جو کچی اینٹوں اور کھجور کی لکڑیوں سے بنی ہوئی تھی اور یہ آبادی اسی طرح تعاون کی محتاج ہے جس طرح اس کی ظاہری تعمیر۔مذکورہ بالا آیت اور روایت کو پہلو بہ پہلو رکھ کر اگر دیکھا جائے تو عنوان باب کا مقصد از خود واضح ہو جاتا ہے۔جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر مسجد نبوی کو کھڑا کیا تھا ان میں سے حضرت ابوسعید خدری بھی تھے جن کا حوالہ سابقہ باب کے عنوان میں ابھی گزر چکا ہے۔یہ جلیل القدر صحابی تھے۔عالم بھی تھے اور مالدار بھی۔حضرت ابن عباس ایک عرصہ تک بصرہ کے امیر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے غلام عکرمہ بھی تھے۔(عمدۃ القاری جزء۴ صفحہ ۲۰۸) حضرت ابن عباس نے ان کو اور اپنے بیٹے علی کو ہدایت کی کہ وہ حضرت ابو سعید خدری سے نبی ﷺ کی باتیں سنا کریں۔کیونکہ حضرت ابوسعید حضرت ابن عباس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بہت زیادہ مستفیض تھے۔وہ دونوں ان کے پاس جاتے۔حضرت ابوسعید با وجود وفرت مال و علم کے اپنے ہاتھوں سے باغ میں کام کرتے۔یہ مثال ہے اس سادگی کی جس کا تعلق مسجدوں کی روحانی آبادی کے ساتھ اتنا ہی گہرا ہے جتنا کہ ظاہری تکلفات اور نمود و نمائش کا دنیا داری کے ساتھ۔يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ : باب ۶۳ میں حضرت ابوسعید خدری نے حضرت عمار بن یا سر کا جو ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بدن سے مٹی جھاڑتے تھے اور فرماتے تھے: وَيْحَ عَمَّارٍ يَّدْعُوهُمْ