صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 535
صحيح البخاری جلد ا مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوْا ۔ ۵۳۵ - كتاب الصلوة کی قبریں مسجدیں بنائی ہیں۔ جو انہوں نے کیا اُس سے بچنے کے لئے متنبہ فرماتے تھے۔ اطراف الحديث ٤٣٥: ۱۳۳۰ ، ۱۳۹۰ ، ٣٤٥٣، ٤٤٤١ ، ٤٤٤٣، ٥٨١٥، اطراف الحديث ٤٣٦ : ٣٤٥٤، ٤٤٤٤، ٥٨١٦۔ ٤٣٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۴۳۷ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔ عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ الله حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ۔ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان یہودیوں کو ہلاک کرے۔ تشریح: انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد میں بنالیا۔ باب ۵۵ بغیر عنوان کے قائم کر کے حضرت عمرؓ - عمر کے عمل پر مزید روشنی ڈالی ہے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں اس گھبراہٹ کا اظہار فرمایا تھا کہ کہیں مسلمان بھی قبر پرستی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس لئے حضرت عمرہ کا فعل بھی اسی خوف پر مبنی تھا اور ان کا فرض تھا کہ احتیاط فرماتے ۔ اس باب سے حضرت عمر کے عمل کو ترجیح دی گئی ہے۔ نیز اس میں ایک اعتراض کا جواب بھی دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ عیسائی تو صرف حضرت مسیح علیہ السلام کے ہی قائل ہیں۔ انبیاء جو جمع کا صیغہ ہے اُن کی طرف کیوں منسوب کیا گیا۔ روایت نمبر ۴۳۷ لاکر بتلایا کہ اس سے مراد یہود کے انبیاء ہیں۔ پہلی روایت میں یہودیوں اور عیسائیوں کا اکھٹا ذ کر کیا گیا ہے۔ گو عیسا؟ کا اکھٹا ذ کر کیا گیا ہے۔ گو عیسائیوں نے ایک ہی نبی پر گر جا کھڑا کیا ہو مگر رجا کھڑا کیا ہو مگر یہاں چونکہ دونوں قوموں کے انبیاء کا ذکر تھا اس لئے قواعد کی رو سے جمع کا صیغہ ہی استعمال ہونا چاہئے تھا۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۸۹) قَاتَلَ اللہ کا جملہ اظہار نفرت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی لَعَنَ اللہ اور وَيْلٌ لَهُ کے جملے بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے شرک کو گناہ عظیم قرار دیا ہے ؟ رار دیا ہے بوجہ اس کے کہ وہ انسان کو اُس ۔ ہ انسان کو اُس کے بلند مقام سے نیچے گراتا اور اسے رحمت الہی سے محروم کر دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار نفرت واقعات پر بنی ہے۔ یہ تو میں روحانی نعمتوں سے اس لئے محروم ہو گئیں کہ انہوں نے حقیقی معبود کو چھوڑ کر باطل معبودوں کی پوجا شروع کر دی۔ (تفصیل کے۔ کے لئے دیکھئے: (۲۔ سلاطین، باب: ۱۷) اور ( Antiquities of the Jews جلد دوم فصل اول )