صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 532 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 532

صحيح البخاری جلد ا ۵۳۲ - كتاب الصلوة بَاب ٥٣: الصَّلَاةُ فِي مَوَاضِعِ الْخَسْفِ وَالْعَذَابِ ان جگہوں میں جہاں زمین دھنس گئی ہو اور عذاب نازل ہوا ہو، نماز پڑھنا وَيُذْكَرُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَرِهَ اور بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے الصَّلَاةَ بِخَسْفِ بَابِلَ۔ بابل کے کھنڈرات میں نماز پڑھنا مکروہ سمجھا۔ ٤٣٣: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۳۳ : ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارِ کہا: مالک نے عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ہوئے مجھے بتایا۔ عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْمُعَذِّبِيْنَ إِلَّا أَنْ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سزا یافتوں کے پاس مت جاؤ تَكُوْنُوْا يَا كِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا بَاكِينَ فَلَا مگر اس حالت میں کہ تم رو رہے ہو۔ اگر تم روتے تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ لَا يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَهُمْ نہیں تو ان کے پاس مت جاؤ۔ مبادا تمہیں بھی وہ مصیبت پہنچے جو انہیں پہنچی۔ اطرافه ۳۳۸۰، 3381، ٤٤19، ٤٤٢٠، ٤٧٠٢۔ صا الله علیہ تشریح : شارع اسلام اے نے ہر ایسے موقع سے فائدہ اٹھایا ہے جس سے تقوی اللہ سے تقوی الله کے احساسات سات پیدا ہوتے ہوں اور ایسی جگہوں میں نماز پڑھنے سے جو ممانعت فرمائی ہے وہ بھی در حقیقت عبرت ناک واقعات کے ساتھ ایک ذہنی تعلق پیدا کرنے کی غرض سے ہے۔ اگر اس قسم کی جگہوں میں جاتے ہوئے دل میں رقت وخشیت پیدا نہیں ہوتی تو پھر وہاں جانے سے منع کر دیا۔ قرآن مجید بھی ان بر باد شدہ جگہوں کی طرف توجہ دلا کر فرماتا ہے: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ (النمل: ۷۰) یعنی جاؤ زمین میں سیر و سیاحت کرو اور نگاہ عبرت سے دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا۔ یہ حدیث اس آیت کے منشاء کے مخالفہ ناء کے مخالف نہیں بلکہ مطابق ہے۔ هَؤُلَاءِ الْمُعَذِّبِينَ کا اشارہ اہل حجر ( قوم ثمود ) کی طرف ہے جن کے پاس سے آپ گزرے تھے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۸۷) تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب احادیث الانبياء۔ بابا: قول الله تعالى والى ثمود اخاهم صالحًا ۔