صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 513
البخارى- جلد ا ۵۱۳ - كتاب الصلوة کے عنوان میں بھی ان مختلف روایتوں کے خلاصہ مفہوم کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ نماز میں تھوکنا منع ہے لیکن اگر تھوکنے کے لئے کوئی مجبور ہو جائے تو پھر کپڑے میں تھوک لے۔روایت نمبر ۴۱۶ میں جو یہ الفاظ ہیں: فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا یعنی اس کے دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے۔ملائکہ کے متعلق تفصیلی بحث آئینہ کمالات اسلام (روحانی خزائن۔جلد ۵ صفحہ ۷۸ تا ۸۷ ) میں دیکھی جائے۔جہاں نقلی اور عقلی دلائل سے اُن کے وجود پر بحث کی گئی ہے۔اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لئے ایک داعی خیر اور ایک دائی شر مقرر کیا گیا ہے۔داعی خیر کو اس روایت میں یمین یعنی دائیں طرف منسوب کیا گیا ہے۔نماز میں انسان دائی خیر کے پاکیزہ اثر کے ماتحت ہوتا ہے۔اس کی نیک تحریک سے وہ نماز میں بادب کھڑا ہوتا ہے۔چونکہ نماز میں تھوکنا مقام ادب کے خلاف ہے اور اس سے توجہ الی اللہ میں فرق آجاتا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔دائیں طرف تھوکنے کی ممانعت اس وجہ سے نہیں کہ تھوک فرشتہ پر پڑے گا بلکہ اس لئے کہ نماز میں عبودیت کی جو ملکی کیفیتیں انسان میں وجہ اسلئے کی پیدا ہورہی ہوتی ہیں اُن میں خلل آنے کا احتمال ہوتا ہے۔یہاں یہ بات یادر ہے کہ نماز میں تھوکنا علی الاطلاق منع ہے۔نہ آگے، نہ دائیں، نہ بائیں۔مگر بحالت مجبوری بائیں طرف تھوکنے کی اجازت دی گئی ہے اور یہ اجازت دیتے وقت اس تقدس و احترام اور یمن و برکت کے تصور کو ضائع ہونے سے محفوظ کر لیا گیا ہے جو قبلہ سے اور دائیں ہاتھ سے وابستہ ہے۔ورنہ دراصل اللہ تعالیٰ تو آگے بھی ہے اور پیچھے بھی اور مختلف ملائکہ اس کے پس و پیش اور چپ وراست اپنے اپنے فرائض ہمیشہ بجالا رہے ہوتے ہیں۔بَاب ۳۹ : إِذَا بَدَرَهُ الْبُرَاقُ فَلْيَأْخُذْ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ جب اُسے تھوک جلدی سے آئے تو چاہیے کہ اپنے کپڑے کے کنارہ میں اُسے لے :٤١٧ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ ۴۱۷ : ہم سے مالک بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا: ہیر قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حمید نے حضرت انسؓ سے أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ نبی ﷺ نے قبلہ میں کھنگار دیکھا تو آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ ڈالا اور آپ کے چہرہ پر) نا پسندیدگی نمایاں تھی یا کہا کہ دیکھا گیا کہ آپ نے اُسے نا پسند فرمایا ہے اور آپ کو لِذَلِكَ وَشِدَّتُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ سخت ناگوار گزرا اور آپ نے فرمایا: تم میں سے جب إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِيْ رَبَّهُ أَوْ کوئی اپنی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ فَلَا يَبْزُ قَنَّ فِي قِبْلَتِهِ مناجات کر رہا ہوتا ہے یا فرمایا: اُس کا رب اُس کے اور وَرُئِيَ مِنْهُ كَرَاهِيَةٌ أَوْ رُئِيَ كَرَاهِيَتُهُ ا