صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 510
صحيح البخاری جلد ا ۵۱۰ - كتاب الصلوة وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا تَنَخَّمَ اور اُسے کھرچ دیا۔ پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ کھنگارے تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ اپنے دائیں طرف۔ اور چاہئے کہ اپنے بائیں طرف قَدَمِهِ الْيُسْرَى۔ اطراف الحديث ٤١٠: ٤٠٨، ٤١٦۔ اطراف الحديث ٤١١: 409، 414 ۔ یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھو کے۔ ٤١٢: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ۴۱۲ : ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا: شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قتادہ نے مجھے بتایا۔ کہا: میں سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے حضرت انس سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَثْفِلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ اپنے سامنے وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ اور نہ ہی اپنے دائیں طرف تھو کے۔ البتہ اپنی بائیں تَحْتَ رِجْلِهِ۔ طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے۔ اطرافه: ٢٤١ ، ٤٠٥ ، ٤١٣ ، ٤١٧، ٥٣١، ٥٣٢، ١٢١٤۔ تشريح : لَا يَبْصُقُ عَنْ يَمِينِهِ فِي الصَّلوة : شارع اسلام نے دائیں ہاتھ کواچھے کاموں کے لیئے اسلام مخصوص کیا ہے اور اس امر کی طرف توجہ دلانے اور اس کی ہمیشہ نگہداشت رکھنے کے لئے ہر مناسب موقع و محل کے مطابق ہدایت فرمائی ہے۔ جیسا کہ یہاں بھی بائیں طرف تھوکنے سے منع فرمایا۔ تا معنوی عزت و طہارت اور یمن و برکت کا مفہوم ذہن میں قائم رہے۔ اس باب میں بھی وہی روایت ایک اور سند سے لائے ہیں اور اس میں بھی کنکری لینے اور کھر چنے کا ذکر ہے۔ کا ذکر ہے۔ ان روایتوں میں بائیں طرف یا پاؤں تلے تھوکنے کی جو اجازت دی گئی ہے۔ وہ حالت مجبوری کو مد نظر رکھ کر دی ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں فرش نہیں ہوتے تھے اس لئے پاؤں کے نیچے تھوک کر اُس کو زمین میں دفنا دینے کا حکم دیا گیا۔ اور یہ اجازت بحالت استثنائی ہے جیسا کہ اس کے متعلق اگلے بابوں کی روایتوں میں اس امر کی تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تھوکنا گناہ قرار دیا ہے اور اگر کوئی غلطی یا بحالت مجبوری تھوکے تو وہ اُس کو دفنا دے۔اس زمانہ میں پاؤں میں جوتیاں ہوتی تھیں ہو اس لیے یہ مسئلہ جوتی کے نیچے تھوک لینے کا ہے نہ کہ منگے پاؤں کے نیچے۔ یسار کا لفظ قرآن کریم وحدیث کے محاورہ میں گندی جگہ یا نا مناسب جگہ کے لیے بھی مستعمل ہے۔ لہذا اس سے یہ مراد بھی ہو سکتا ہے کہ ایسی جگہ جو ان کاموں (یعنی تھوکنے وغیرہ) کے لیے مختص ہے۔ مثلاً طہارت خانے وغیرہ ، وہاں تھوک لے۔ نیز تَحْتَ قَدَمِہ سے یہ مراد بھی ہو سکتا ہے کہ اس چیز میں تھوک لے جو اس کے تصرف میں ہے۔ مثلاً رومال دیکھئے کتاب الصلوة۔ باب ۲۴: الصلوة في النعال۔ حديث نمبر : ۳۸۶