صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 509
ری جلد ا ۵۰۹ - كتاب الصلوة أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا تو اپنے منہ کے سامنے کھنگار نہ پھینکے اور نہ ہی اپنی عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ دائیں طرف اور چاہئے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا اپنے تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى۔اطراف الحديث ٤١٠:٤٠٨، ٤١٦۔اطراف الحدیث ٤٠٩: ٤١١، ٤١٤۔بائیں قدم کے نیچے تھو کے۔تشریح: سابقہ باب میں پیدہ کے الفاظ عنوان میں درج کر کے امام موصوف نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ روایت نمبر ۴۰۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے رینٹھ کھر چی تھی۔روایت نمبر ۴۰۵ کے مقابل پر اسی باب میں روایت نمبر ۶ ۴۰ ،۴۰۷ لاکر یہ بتلایا کہ حضرت ابن عمر اور حضرت عائشہ کی روایتوں میں بیدہ کے الفاظ نہیں۔صرف فَحَكَّة ہے یعنی اُسے کھرچ ڈالا کیونکہ وہ خشک تھا۔فَتَنَا وَلَ حَصَاةٌ فَحَكَّهَا : چونتیسویں باب میں اس روایت کی ایک اور سند نقل کی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اسے کنکری سے گھر چاتھا۔بیدہ سے مراد یہ نہیں کہ ناخن سے کھر چا بلکہ یہ مراد ہے کہ خود کیا تھا۔یہ سند زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ اس کے دوراوی ہیں ؛ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوسعید اور ان کا بیان ایک ہے۔باب کے عنوان میں حضرت ابن عباس کا حوالہ دے کر ایک لطیف اشارہ کیا ہے کہ اگر چہ خشک رینٹھ ایسی ناپاک نہیں کہ ہاتھ لگنے سے ہاتھ نا پاک ہو جائے۔رینٹھ چھوڑ خشک گوبر لگنے سے پاؤں ناپاک نہیں ہوتے مگر روایت کے الفاظ صریح ہیں کہ کنکری سے آپ نے وہ میٹھے دور کی تھی اور اس خشک رینٹھ کے وجود کو بھی آپ نے مسجد کے آداب کے منافی سمجھا۔بَاب ٣٥ : لَا يَبْصُقْ عَنْ يَمِيْنِهِ فِي الصَّلَاةِ نماز میں اپنی دائیں طرف نہ تھو کے ٤١٠-٤١١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۴۱۰-۴۱۱ : ہم سے بیٹی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ لیٹ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عقیل سے، تحقیل عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرۃ اور أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابوسعید دونوں نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی چاردیواری میں کھنگار فَتَنَاوَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی