صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 509 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 509

صحيح البخاری جلد ا ۵۰۹ - كتاب الصلوة أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا تو اپنے منہ کے سامنے کھنگار نہ پھینکے اور نہ ہی اپنی عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ دائیں طرف اور چاہئے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا اپنے تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى۔ اطراف الحديث ٤٠٨: 410، ٤١٦۔ اطراف الحديث ٤٠٩: ٤١١، ٤١٤۔ بائیں قدم کے نیچے تھوکے۔ تشریح سابقة سابقہ باب میں بیدہ کے الفاظ عنوان میں درج کر کے امام موصوف نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ روایت نمبر ۴۰۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے رینٹھ کھرچی تھی۔ ۔ روایت نمبر ۴۰۵ کے مقابل پر اسی باب میں روایت نمبر ۴۰۶، ۴۰۷ لاکر یہ بتلایا کہ حضرت ابن عمرؓ اور حضرت عائشہ کی روایتوں میں بیدہ کے الفاظ نہیں ۔ صرف فحصہ ہے یعنی اُسے کھرچ ڈالا کیونکہ وہ خشک تھا۔ فَتَنَا وَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا: چونتیسویں باب میں اس روایت کی ایک اور سند نقل کی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اسے کنکری سے کھر چاتھا۔ بیدہ سے مراد یہ نہیں کہ ناخن سے کھر چا بلکہ یہ مراد ہے کہ خود کیا تھا۔ یہ سند زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ اس کے دوراوی ہیں ، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوسعید۔ اور ان کا بیان ایک ہے۔ باب کے عنوان میں حضرت ابن عباس کا حوالہ دے کر ایک لطیف اشارہ کیا ہے کہ اگر چہ خشک رینٹھ ایسی ناپاک نہیں کہ ہاتھ لگنے سے ہاتھ نا پاک ہو جائے ۔ رینٹھ چھوڑ خشک گوبر لگنے سے پاؤں ناپاک نہیں ہوتے ۔ مگر روایت کے الفاظ صریح ہیں کہ کنکری سے آپ نے وہ رینٹھ دور کی تھی اور اس خشک رینٹھ کے وجود کو بھی آپ نے مسجد کے آد آپ نے مسجد کے آداب کے منافی سمجھا۔ بَاب ٣٥ : لَا يَبْصُقْ عَنْ يَمِينِهِ فِي الصَّلَاةِ نماز میں اپنی دائیں طرف نہ تھو کے ٤١٠ - ٤١١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۴۱۰-۴۱۱ : ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ لیٹ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عقیل سے تعقیل عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ اور أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابو سعید دونوں نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ صلى اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی چار دیواری میں کھنگار فَتَنَاوَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی