صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 511
البخارى- جلد ا ۵۱۱ - كتاب الصلوة وغیرہ۔ان معنوں کو اس روایت سے بھی تقویت ملتی ہے، جس میں کپڑے کے پلو میں تھوکنے اور اسے دو ہرا کر لینے کا ذکر ہے۔(دیکھئے کتاب الصلوۃ، باب ۳۹) بَاب ٣٦ : لِيَبْزُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى چاہیے کہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھو کے ٤١٣: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۴۱۳ : ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ سے بیان کیا، کہا: قتادہ نے ہمیں بتلایا۔کہا: میں نے مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس بن مالک سے سنا۔انہوں نے کہا: نبی وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب نماز میں ہوتا فَإِنَّمَا يُنَاجِيْ رَبَّهُ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ہے تو وہ اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کر رہا ہوتا وَلَا عَنْ يَمِيْنِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ ہے اس لئے وہ نہ اپنے سامنے اور نہ ہی اپنی دائیں طرف تھو کے لیکن اگر تھوکنا ہی ہو تو اپنی بائیں طرف یا تَحْتَ قَدَمِهِ۔اپنے پاؤں کے نیچے۔اطرافه: ٢٤١، ٤٠٥، ٤۱۲ ، ٤١٧، 531، 531، 1114۔٤١٤: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۱۴ : ہم سے علی نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ حُمَيْدِ سے بیان کیا ، ( کہا: ) زہری نے ہمیں بتلایا۔انہوں ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ نے مُحمد بن عبد الرحمن سے مُحمید نے حضرت ابوسعید النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَهَا قبلہ میں کھنگار دیکھا تو آپ نے ایک کنکری سے اُسے کھرچ ڈالا۔پھر آپ نے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ سامنے یا اپنی دائیں طرف تھوکے۔البتہ اپنے يَدَيْهِ أَوْ عَنْ يَمِيْنِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَعَنِ الزُّهْرِيِّ لے)۔زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے حمید سے سَمِعَ حُمَيْدًا عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ نَحْوَهُ۔سنا۔وہ حضرت ابوسعید خدری) سے اسی طرح روایت کرتے تھے۔اطرافه: ٤٠٩، ٤١١۔