صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 497 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 497

اری جلد ا ۴۹۷ - كتاب الصلوة لا أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَ يَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ " وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاه أُولئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا۔۔۔(النساء :۱۵۱-۱۵۲) { ترجمہ: یقینا وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کا انکار کر دیں گے اور چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ کی کوئی راہ اختیار کریں۔یعنی اللہ کو ماننا اور رسولوں کو نہ مانا یا بعض رسولوں کو ماننا اور بعض کا انکار کرنا یقینا کفر ہے۔قرآن مجید کے اس صریح فتویٰ کو نظر انداز کرتے ہوئے مذکورہ بالا روایت کی بناء پر ہر کلمہ گو قبلہ رخ ہونے والے کو بغیر قید و شرط و تخصیص کے مسلمان قرار دینا لوگوں کو صریح دھوکے میں ڈالنا ہے۔خصوصاً جبکہ ان روایتوں میں المُسلِم کی تخصیص الَّذِی سے کی گئی ہے۔یعنی یہ وہ مسلمان ہے جس کو اسلامی سوسائٹی کے وہ حقوق حاصل ہیں جو دوسرے مسلم افراد کو۔یعنی اس پر اسلامی قانون کا اجرا ہو گا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ تمام اعتبارات کے لحاظ سے کامل مسلمان ہو گا خواہ وہ تو حید یا رسالت کا انکار کرتا ہو۔بیشک ہم ایسے شخص کو اسلامی سوسائٹی کی طرف منسوب کریں گے اور اسلامی شریعت کے احکام بھی اس پر نافذ ہونگے مگر وہ مسلم کی حقیقی تعریف کا مصداق نہیں ٹھہرے گا۔صرف ایک اصطلاحی مسلمان کہلائے گا۔ان روایتوں کا یہی اصل مفہوم ہے۔اس مفہوم کو بگاڑنا اور اس سے غلط استدلال کرنا صریح ظلم ہے۔بَاب ۲۹: قِبْلَةُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَهْلِ الشَّامِ وَالْمَشْرِقِ مدینہ والوں کا اور شام اور مشرق والوں کا قبلہ لَيْسَ فِي الْمَشْرِقِ وَلَا فِي الْمَغْرِبِ اور قبلہ نہ مشرق میں ہے اور نہ مغرب میں کیونکہ نبی قِبْلَةٌ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پاخانہ یا پیشاب لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطِ أَوْ بَوْلٍ وَلَكِنْ کرتے (وقت) قبلہ کی طرف منہ نہ کیا کرو۔مشرق شَرِقُوْا أَوْ غَرِبُوْا۔کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف۔٣٩٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ :۳۹۴ : ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سفیان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: زہری عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عطاء بن یزید سے، عطاء الْأَنْصَارِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی کہ نبی وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا ﷺ نے فرمایا کہ جب تم قضائے حاجت کیلئے جاؤ تو تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ ہی اُس کی طرف پیٹھ