صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 498 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 498

خاری جلد ا ۴۹۸ - كتاب الصلوة وَلَكِنْ شَرِقُوْا أَوْ غَرِبُوْا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ کرو۔بلکہ مشرق کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف۔فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيْضَ بُنِيَتْ حضرت ابوایوب کہتے تھے کہ ہم شام آئے تو ہم نے قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَتَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ الله پاخانے قبلہ رُخ بنے ہوئے پائے۔پس ہم ایک تَعَالَى وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ طرف کو مُڑ جاتے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہتے۔سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نیز زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے عطاء سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوایوب کو نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے سنا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ۔طرفة: ١٤٤- تشريح لَيْسَ فِي الْمَشْرِقِ وَلَا فِي الْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ: یہ اب اس بات کی وضاحت کے لئے باندھا گیا ہے کہ جہات میں کوئی جہت بذات خود قبلہ نہیں بلکہ قبلہ در حقیقت وہ مقام ابراہیم ہے جو بیت اللہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَ أَمْنًا ، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى (البقرة :۱۲۶) اور جب ہم نے (اپنے) گھر کو لوگوں کے بار بار اکٹھا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا۔اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو۔چنانچہ اگلا باب اور اس کی روایتیں بھی اسی مضمون سے متعلق ہیں۔طول تعامل کے مخفی اثر کے ماتحت عام طور پر لوگ ایک معین جہت کو قبلہ سمجھنے لگ گئے ہیں۔امام بخاری نے اسی غلط اثر کو مٹانے کی خاطر باب ہذا کا عنوان قِبْلَةُ أَهْلِ الْمَدِينَة۔۔۔باندھ کر اس کی نفی کی ہے کہ نہ مشرق میں قبلہ ہے اور نہ مغرب میں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ وَلَكِن شَرِّقُوا أَوْ غَرِبُوا سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر جہات میں سے کوئی جہت قبلہ ہوتی تو پھر مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنے کا حکم نہ دیتے۔بَاب ۳۰ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلَّى (البقرة : ١٣٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ تم مقام ابرہیم کو نماز گاہ بناؤ ٣٩٥ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا :۳۹۵ : ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا: سفیان نے سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَّجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ ہمیں بتلایا۔کہا: ہم نے حضرت ابن عمر سے ایسے شخص لِلْعُمْرَةِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ کے متعلق پوچھا جو بیت اللہ کا طواف عمرہ تو کرے اور أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى الله صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو کیا وہ اپنی