صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 496 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 496

البخاري - جلد ا ۴۹۶ - كتاب الصلوة معاہدہ ہو چکا ہو۔تو بعض مسلمانوں کو بھی ان حقوق سے محروم کرتی ہے جو ذمیوں کو اسلامی شریعت کی رو سے حاصل ہیں۔غرض اس روایت میں تو صرف اس مسلمان کی تعریف ہے جو اسلامی سوسائٹی میں داخل ہونے کا اجتماعی حق رکھتا ہے اور جس پر شریعت اسلامیہ کے احکام عائد ہو سکتے ہیں۔فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَ ذِمَّةٌ رَسُولِهِ کی نحوی ترکیب اس اصطلاحی تعریف کو صاف واضح کر رہی ہے اور امام بخاری کا روایت نمبر ۳۹ کے بعد أُمِرْتُ أَنْ أَقَاتِلَ النَّاسَ کی روایت کو خصوصیت سے لانا بتلاتا ہے کہ وہ اس تعریف کو جنگی حالات کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں۔یعنی وہ کا فر جو مسلمانوں کے ساتھ برسر پیکار ہیں اسلامی سوسائٹی میں داخل ہونے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا حق تب ہی رکھ سکتے ہیں کہ جب وہ مسلمانوں کی طرح اسلامی اصول کے پابند ہوں۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ ان اصول کے پابند ہو کر شریعت کی دوسری پابندیوں سے آزاد ہونگے بلکہ اگر انہوں نے حقوق میں تعدی کی تو ان سے انتقام لیا جائے گا۔أُمِرْتُ أَنْ أَقَاتِلَ النَّاسَ کے متعلق جو اعتراض کیا جاتا ہے اس کا مفصل جواب کتاب الایمان باب ۷ اروایت ۲۵ کی تشریح میں گزر چکا ہے جو لوگ اس روایت کی بناء پر غیر مسلم کی جان و مال لینا جائز سمجھتے ہیں ان کے نزدیک تارک الصلوۃ مسلمان کی جان ومال بھی محفوظ نہیں۔اگر فقہی مسائل کے استنباط کرنے میں اس طرح وسعت سے کام لیا جائے تو گوشت نہ کھانے والا مسلمان بھی غنیمت کا شکار ہوگا۔اندریں صورت مسلم اور غیر مسلم کا سوال باقی نہ رہے گا۔سب سے پہلے تارک الصلوۃ واجب القتل ہوگا۔علاوہ ازیں شارع اسلام پر بھی یہی اعتراض ہوگا کہ آپ نے واقعہ حدیبیہ میں کفار سے کیونکر صلح کی اور جزیہ لے کر ذمیوں کو امن دینے کی کیوں تاکید فرمائی۔مذکورہ بالا فتویٰ کے نیچے سب کافروں کو تہ تیغ کرنا چاہئے تھا۔نیز کلمہ گو مسلمانوں کے لیے ذمی کفار کے بالمقابل یہ کیوں جواب دیا: مَالَكُمْ مِنْ وَلَا يَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ۔یعنی ہمارا تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔در حقیقت یہ فتوے ایسے بودے اور شریعت حقہ سے اتنے دور ہیں کہ اسلام میں ان پر کبھی عمل نہیں ہوا۔امام بخاری نے روایت نمبر ۳۹۳ میں جہاں اس روایت میں تدلیس واقع ہونے کے شبہ کا ازالہ کیا ہے (فتح الباری جز اوّل صفحہ ۶۴۵) وہاں انہوں نے اس کا مفہوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ میں واضح کر دیا ہے فَهُوَ المُسْلِمُ لَهُ مَالِلْمُسْلِمِ وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِم۔یعنی اجتماعی حقوق اور احکام شریعت کے اجراء کے اعتبار سے مسلمان وہ شخص ہے جس میں مذکورہ بالا باتیں پائی جائیں۔روایت ۳۹۱-۳۹۳ سے یہ استدلال کرنا بھی درست نہیں کہ تمام اہل قبلہ مسلمان ہیں خواہ ان میں سے بعض ارکانِ ایمان میں سے کسی رکن کا انکار ہی کریں۔مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی رسول کو نہ مانیں۔پس جیسا کہ غیر مسلم یا تارک الصلوۃ کو واجب القتل ٹھہرانے والے زیر الزام ہیں کہ وہ اس حدیث کا مفہوم بغیر کسی قید و شرط کے لینے میں غلطی کرتے ہیں ایسا ہی وہ لوگ بھی زیر الزام ہیں جو اس حدیث کی بناء پر بغیر کسی قید و شرط کے ہر کلمہ گو، قبلہ رخ ہونے والے کو مسلمان قرار دیتے ہیں۔دو باتیں ہیں جن کا حکم الگ الگ ہے۔ایک یہ کہ توحید باری تعالیٰ اور رسالت کو مانتے ہوئے قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا وغیرہ۔اور دوسری یہ کہ ان دوڑکنوں میں سے کسی ایک رکن کا کسی پہلو سے انکار کرتے ہوئے قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا۔اس آخری شق کے متعلق قرآن مجید کا صریح فتویٰ یہ ہے: إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ