صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 494 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 494

البخاری جلد ا ۴۹۴ - كتاب الصلوة مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى رسول الله ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں يَقُوْلُوْا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوْهَا وَصَلَّوْا لوگوں سے مقابلہ کرتا ہوں تا وقتیکہ وہ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ کا صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا وَذَبَحُوا اقرار نہ کریں۔اگر وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں ذَبِيحَتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ۔اطرافه: ۳۹۱، ۳۹۳۔اور ہمارا ذبیحہ کھائیں تو پھر اُن کے خون اور اُن کے مال ہمارے لئے حرام قرار دئے گئے ہیں سوائے جہاں حقوق کا تقاضا ہو اور ان کا حساب اللہ تعالٰی ) پر ہوگا۔:۳۹۳ قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا ۳۹۳ : ( اور ) ابن ابی مریم نے کہا کہ بیٹی ( بن ایوب) يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ نے ہمیں بتلایا کہ حمید نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے اللهِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا ہوئے ہمیں بتلایا۔اور ایسا ہی علی بن عبد اللہ نے کہا کہ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا، کہا: حمید نے حُمَيْدٌ قَالَ سَأَلَ مَيْمُونُ بْنُ سِيَاءٍ أَنَسَ بْنَ ہمیں بتلایا۔کہا کہ میمون بن سیاہ نے حضرت انس بن مَالِكِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْعَبْدِ ،مالک سے پوچھا۔کہا: ابوحمزہ! آدمی کے خون کو اور اس وَمَالَهُ فَقَالَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کے مال کو کوئی چیز محفوظ کر دیتی ہے تو انہوں نے کہا: جو وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَصَلَّى صَلَاتَنَا وَأَكَلَ شخص یہ اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ذَبِيْحَتَنَا فَهُوَ الْمُسْلِمُ لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارا ذبیجہ کھائے پس وہ مسلمان ہے۔اُس کے لیے وہی حقوق ہیں جو مسلمان کے لیے ہیں اور وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ۔اطرافه: ۳۹۱، ۳۹۲ تشریح: اس پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مسلمان پر ہیں۔فَضْلُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ : قبلہ رخ ہونے کا فعل اپنے اندر دو غرضیں رکھتا ہے۔ایک یہ کہ افراد اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے میں اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہوں۔ظاہری اعضاء کی یک جہتی معنوی