صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 493
صحيح البخاری جلد ا لدها الله - كتاب الصلوة حَتَّى يَبْدُ وَ بَيَاضُ اِبْطَيْهِ: امام کرمانی کہتے ہیں کہ اس کی ایک توجیہہ یہ ہے کہ بغلوں پر کپڑا نہ ہوگا۔ (شرح البخاري للكرماني الجزء الرابع۔ صفی (۵۳) اس مضمون کو ان روایات سے تقویت ملتی ہے جن میں حضرت عمر بن ابی سلمہ بیان کرتے ہیں کہ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ال يُصَلِّى فِي ثَوْبٍ وَّاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَائِقَيْهِ۔ (دیکھئے کتاب الصلوۃ، باب (۴) ان روایات میں اگر چہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے مگر یہ آپ کا معمول نہیں تھا۔ بلکہ آپ کو لباس میں قمیص پسند تھی جیسا کہ حضرت ام سلمہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: كَانَ أَحَبُّ القِيَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ الله يَلْبَسُهُ الْقَميص ۔ (شمائل المحمدية للترمذى۔ باب ۸ : ماجاء في لباس رسول الله ۔ روایت نمبر ۵۷) باب ۲۸: فَضْلُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ قبلہ کی طرف منہ کرنے کی فضیلت يَسْتَقْبِلُ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ { الْقِبْلَةَ } قَالَهُ اپنے پاؤں کی انگلیاں ( قبلہ رخ ) رکھے۔ ابوحمید أَبُو حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہ بیان کیا۔ ۳۹۱ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ ۳۹۱ : ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا: ابن حَدَّثَنَا ابْنُ الْمَهْدِي قَالَ حَدَّثَنَا مہدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: منصور بن سعید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے میمون بن سیاہ سے، انہوں مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مَّيْمُونِ بْنِ سِيَاهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ۔ وہ ۔ کہتے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی کھائے۔ وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ طرف منہ کرے اور ہمارا ذبح کردہ جانور کھا۔ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةً رَسُوْلِهِ پس یہ وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ کی امان ہے فَلَا تَخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ۔ اطرافه: ۳۹۲، ۳۹۳۔ اور اُس کے رسول کی امان ہے۔ سو اللہ سے عہد شکنی مت کرو؛ اُس امان کے متعلق جو اُس نے دی ہے۔ ٣٩٢: حَدَّثَنَا نُعَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ۳۹۲ : ہم سے نعیم نے بیان کیا، کہا: ابن مبارک نے الْمُبَارَكِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید الطویل سے، حمید نے للفظ القبلة فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۶۴۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔