صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 495
البخاری جلد ا ۴۹۵ ٨- كتاب الصلوة یک جہتی پیدا کرنے کی محرک ہوتی ہے۔اِنَّمَا الا عمَالُ بِالنِّيَّاتِ کی تشریح میں یہ امر واضح کیا جا چکا ہے کہ جو نہی انسان کسی مقصد کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے باقی افعال میں بھی طبعی طور پر کم و بیش ایک ایسی حالت پیدا ہوتی ہے جو ان کی جہت حرکت کو اس مقصد کی طرف پھیر دیتی ہے۔دوسری وہ اجتماعی غرض ہے جس کی طرف امام موصوف نے روایت نمبر ۳۹۳-۳۹۱ لا کر اشارہ کیا ہے۔یعنی قبلہ رخ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ تمام مسلمانوں میں اعتقادی اور عملی یک جہتی پیدا ہو اور اُن پر احکام شریعت کا نفاذ مساوی طور پر ہو سکے۔قَالَهُ أَبُو حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ الله : حضرت ابوحمید کا قول نقل کر کے اٹھائیسویں باب کے مفہوم کی : وضاحت کی ہے کہ نمازی کو اپنے تمام اعضاء کے ساتھ یک جہت ہو کر قبلہ رخ کھڑا ہونا چاہئے۔یہاں تک کہ پاؤں کی اُنگلیوں کا رُخ بھی قبلہ ہی کی طرف ہو۔حضرت ابوحمید کی روایت کتاب الاذان باب سنة الجلوس في التشهد۔نمبر ۸۲۸ میں دیکھئے۔اس باب کے ضمن میں جو حدیثیں بیان کی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام مسلمانوں میں یک جہتی ہونی چاہیئے۔یک جہتی کے بغیر سلامتی اور امن نصیب نہیں ہو سکتا۔یہ وہ اجتماعی اصل ہے جس کے بغیر کوئی جماعت بھی با امن نہیں رہ سکتی۔بلکہ اس کے بغیر جماعت کا وجود ناممکن ہے۔جماعت اس کا نام نہیں کہ چند افراد ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں۔بلکہ ان افراد کے مجموعہ کا نام ہے جن کے درمیان مشتر کہ اغراض نے ظاہری اور معنوی رابطہ پیدا کر کے انہیں ایک نظام سے وابستہ کر دیا ہو۔قطع نظر اس سے کہ وہ ایک جگہ جمع ہوں یا مختلف جگہوں میں منتشر۔روایت نمبر ۳۹ کے الفاظ فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّهُ اللَّهِ وَذِمَّهُ رَسُولِهِ کے یہ معنی ہیں کہ یہ وہ مسلمان ہے جس کو شریعت اسلامیہ کے مطابق اجتماعی حقوق حاصل ہونگے۔فَلا تَخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذمہ : اس لئے تم اللہ تعالیٰ کے اس امان کی خیانت مت کرو۔یعنی مسلمان کی عزت ، جان اور مال پر تعدی نہ ہو۔روایت نمبر ۳۹۲ کے الفاظ إِلَّا بِحَقِّها روایت ۳۹۱ کے مضمون کی مزید تشریح کرتے ہیں۔یعنی اگر مسلمان چوری یا خون کرے گا تو پھر اُس کی جان اور اُس کا مال امن میں نہ ہونگے۔شریعت اسلامیہ کے مطابق اس سے قصاص لیا جائے گا۔(دیکھئے کتاب العلم باب ۳۷) أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ : حدیث نمبر ۳۹۲ کا یہ مفہوم ہر گز نہیں کہ جو لا اله الا اللہ کا اقرار نہ کرے یا نماز نہ پڑھے وہ واجب القتل ہے اس کی بے حرمتی کی جائے اور اس کا مال لوٹ لیا جائے۔ایک بات کے نفی یا اثبات سے دوسری بات کی نفی یا اثبات لازم نہیں آتی۔جو لا اللَّهُ إِلَّا اللہ کا اقرار نہیں کرتے ان کے متعلق الگ احکام شریعت ہیں جیسے جزیہ ادا کرنے پر وہ اسی طرح مامون و محفوظ ہیں جیسے ایک مسلمان۔(دیکھئے کتاب الجزیۃ ) بلکہ آیت وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَالَكُمْ مَنْ وَّلَا يَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا وَإِن اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلى قَوْم بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقَ (الانفال : (۷۳) { ترجمہ: اور وہ لوگ جو ایمان لائے مگر انہوں نے ہجرت نہ کی تمہارے لیے اُن سے دوستی کا کچھ جواز نہیں یہاں تک کہ وہ ہجرت کر جائیں۔ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد چاہیں تو مد دکر نا تم پر فرض ہے، سوائے اس کے کہ کسی ایسی قوم کے خلاف ( مدد کا سوال ) ہو جس کے اور تمہارے درمیان で