صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 492
البخاری جلد ا ۴۹۲ - كتاب الصلوة رُكُوْعَهُ وَلَا سُجُوْدَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع پورے طور پر نہ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ مَا صَلَّيْتَ قَالَ وَأَحْسِبُهُ کرتا اور نہ سجدے۔جب وہ اپنی نماز ختم کر چکا تو قَالَ لَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ حضرت حذیفہ نے اُسے کہا: تو نے نماز نہیں پڑھی۔(ابووائل) کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطراف افه: ۷۹۱، ۸۰۸ بھی کہا: اگر تو مر جائے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے سوا ( کسی طریقہ پر ) مرے گا۔تشریح : امام بخاری نے یہ باب قائم کرکے ان لوگوں پر ایک اعتراض کیا ہے کہ گر زمین سے پیشانی وغیرہ اعضاء کا چھونا ضروری ہے تو سابقہ مستند روایتوں کی بناء پر ماننا پڑے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی نماز میں زمین کو نہیں چھوٹی۔اس صورت میں حضرت حذیفہ بن یمان کا فتویٰ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان لوگوں پر چسپاں کرنا پڑے گا جنہوں نے چٹائیوں وغیرہ پر نماز پڑھی۔بَاب ٢٧: يُبْدِي ضَبْعَيْهِ وَيُجَافِيْ {جَنْبَيْهِ} فِي السُّجُودِ (نمازی) سجدے میں اپنے بازؤوں کو کھلا رکھے اور (اپنے پہلوؤں سے ہی انہیں الگ رکھے ۳۹۰ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۳۹۰ : ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: ) بکر حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ بن مصر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے جعفر سے، جعفر هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ نے ہرمز کے بیٹے سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مالک بن نحسینہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا صَلَّى فَرَجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُو نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوتی اور بَيَاضُ إِبْطَيْهِ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِيْ جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ نَحْوَهُ۔اطرافه: ٨٠٧ ٣٥٦٤ لیٹ نے کہا کہ جعفر بن ربیعہ نے بھی مجھے اسی طرح بتایا۔تشریح باب کرکے مفت ہےبی صلی کی باب ۲۷۷ قائم کر کے سنت نبویہ کو پیش کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ سلم کی عادت تھی کہ آپ سجدہ میں اپنے بازو زمین سے اٹھائے رکھتے تھے۔غرض نماز میں اپنے آپ کو زمین سے چپکا نا ضروری نہیں۔لفظ جنبيه فتح البارى مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۶۴۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔