صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 491 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 491

صحيح البخاری جلد ا ۴۹۱ - كتاب الصلوة ۳۸۸ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ ۳۸۸ : ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا۔ کہا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ابو اسامہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، مُسْلِمٍ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ اعمش نے مسلم سے مسلم نے مسروق سے، مسروق شُعْبَةَ قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا۔ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى ۔ آپ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔ اطرافه ۱۸۲ ، ۲۰۳ ، ۲۰۶ ، ۳۶۳، ۲۹۱۸ ، ٤٤۲۱، ٥٧٩٨، ٥٧٩٩۔ تشریح : باب ۲۳، ۳۵ بھی ایک اختلافی مسلہ حل کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ روایت نمبر ۳۸۷ میں برا ہیں روایت ۳۸۷ ابراہیم نخعی کے قول فَكَانَ يُعْجِبُهُمُ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھی اس روایت کو سن کر خوش ہوتے تھے۔ (مسلم کتاب الطهارة - باب المسح على الخفين) کیونکہ جو لوگ موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں سمجھتے وہ یہ عذر پیش کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورہ مائدہ کے نازل ہونے سے پہلے مسح کیا کرتے تھے۔ مگر بعد میں جبکہ پاؤں دھونے کا حکم سورہ مائدہ میں نازل ہوا تو آپ نے مسح نہیں کیا ہوگا۔ حضرت جر حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی آخر میں مسلمان ہوئے تھے جبکہ سورہ مائدہ ندہ نازل ہو چکی تھی۔ ابو داؤد نے واقعہ مذکورہ بالا مفصل نقل کیا ہے۔ اس میں ہے کہ حضرت حضرت جرب جریر نے لوگوں کو نازل یہ جواب دیا: مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ نُزُولِ الْمَآئِدَةِ۔ (ابوداؤد۔ كتاب الطهارة۔ باب المسح على الخفين) باب ۲۴، ۲۵ کا تعلق سابقہ بابوں سے ظاہر ہے کہ جوتا یا موزہ پہنے نماز پڑھنے میں بھی قدم زمین کو نہیں چھوتے۔ ان روایتوں سے اس خیال کی تغلیط ہوتی ہے کہ نماز میں جسم کا زمین سے بغیر کسی درمیانی روک کے چھونا ضروری ہے جوتوں سمیت نماز پڑھنے کے متعلق صحیح مذہب یہی ہے کہ اگر فرش بچھا ہو یا مسجد کا صحن یا نماز گاہ صاف ستھری ہو اور گرمی یا سردی کی تکلیف سے بچنے کا سامان بھی ہو تو پھر خواہ مخواہ جوتوں سمیت نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر مٹی سے پاؤں میلے ہوتے ہوں یا سخت سردی یا گرمی سے ننگے پاؤں نماز پڑھنا تکلیف دہ ہو تو اس وقت جوتے سمیت نماز پڑھے۔ ایسا ہی اگر فل بوٹ یا سواری کے بوٹ اُتارنے میں دقت ہو اور ان کے تلے صاف ستھرے ہوں تو اُن کے سمیت نماز پڑھ سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں غلو کرنا نا جائز ہے۔ صحیح ضرورت کے تقاضا کے مطابق عمل کیا جائے۔ باب ٢٦ : إِذَا لَمْ يُتِمَّ السُّجُوْدَ جب سجدہ پورے طور پر نہ کرے ۳۸۹ : أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۸۹ : ہمیں صلت بن محمد نے بتایا کہ مہدی نے ہمیں أَخْبَرَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي خبر دی ۔ انہوں نے واصل سے، واصل نے ابو وائل وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَأَى رَجُلًا لَّا يُتِمُّ ہے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے روایت کی کہ