صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 485
البخاری جلد ا ۴۸۵ - كتاب الصلوة تشریح: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ : اٹھارہویں باب کا تعلق جہاں تک فقہی مسائل ہے ہے، واضح ہے۔اس امر کے متعلق بھی اختلاف ہوا ہے کہ آیا جب مقتدی امام سے یا امام مقتدی سے اونچی جگہ پر نماز پڑھ رہا ہو تو کیا مقتدی کی نماز درست ہوگی۔امام بخاری روایت نمبر۳۷۷ و ۳۷۸ کی بناء پر جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔بعض تابعین اور مالکی امام سے اونچا ہو کر اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۳۰ ) دوسری روایت سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ نماز میں امام کی اقتداء ارکان نماز تک محدود ہے نہ اونچائی اور نیچائی میں۔امام موصوف نے باب مذکورہ بالا یہاں قائم کر کے سابقہ بابوں کے مضمون پر بھی ضمنا استدلال کیا ہے۔الْغَابَة کے معنی جنگل۔اور غابہ اس جنگل کا نام بھی تھا جو مدینہ کے بلند مضافات میں تھا۔(لسان العرب۔تحت غیب ) آپ نے منبر پر نماز تبر کا پڑھی تھی۔آپ کی عادت تھی کہ اگر نی لباس انٹی جوتی پہنتے تو دونفل پڑھتے تا کہ الہ تعالی کی دی ہوئی نعمت استعمال کرتے وقت پہلے اس کا شکریہ ادا کیا جائے ( یہ روایت نمبر ۱۷ء میں بھی دہرائی گئی ہے ) بَاب ١٩: إِذَا أَصَابَ ثَوْبُ الْمُصَلِّيَ امْرَأَتَهُ إِذَا سَجَدَ جب نمازی کا کپڑا اسجدہ کرتے وقت اپنی بیوی کو لگے ۳۷۹ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ خَالِدٍ قَالَ :۳۷۹ مسدد نے خالد سے روایت کرتے ہوئے حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ہمیں بتلایا۔کہا: سلیمان شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔شَدَّادٍ عَنْ مَّيْمُوْنَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ انہوں نے عبداللہ بن شداد سے۔عبداللہ نے حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ میمونہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی وَأَنَا حَائِضٌ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا الله علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے اور میں آپ کے پہلو سَجَدَ قَالَتْ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى الْعُمْرَةِ میں ہوتی اور میں حائضہ ہوتی۔بلکہ آپ کا کپڑا مجھے لگتا جب آپ سجدہ کرتے۔وہ کہتی تھیں: اور آپ تشریح چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔اطرافه ۳۳۳، ۳۸۱، ۵۱۷، ۵۱۸ مسائل لباس کے ضمن میں اس مسئلہ کا اعادہ کیا گیا ہے جس کا مفصل ذکر کتاب الحیض ( باب ۳۰۔حدیث نمبر ۳۳۳) میں گزر چکا ہے۔حائضہ اپنی ذات میں پاک ہے۔اس کے چھونے سے کسی کی نماز فاسد نہیں ہوتی۔ہر ایک چیز کی طہارت یا نجاست نسبتی امر ہے۔ہری کو اپنے اپنے اعتبار سے دیکھنا چاہئے۔