صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 486
صحيح البخاری جلد ا ۴۸۶ - كتاب الصلوة بَاب ٢٠: الصَّلَاةُ عَلَى الْحَصِيْرِ ستیل وغیرہ سے بنی ہوئی) چٹائی پر نماز پڑھنا وَصَلَّى جَابِرٌ وَأَبُو سَعِيدٍ فِي اور حضرت جابر ( بن عبدالله ) اور حضرت ابوسعید نے السَّفِينَةِ قَائِمًا وَقَالَ الْحَسَنُ { تُصَلِّي کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور حسن (بصری) قَائِمًا مَّا لَمْ تَشَقَّ عَلَى أَصْحَابِكَ تَدُورُ نے کہا: کھڑے ہو کر (نماز پڑھو) بشرطیکہ اپنے ساتھیوں کو تکلیف نہ دو۔ کشتی کے ساتھ ساتھ ہی مَعَهَا وَإِلَّا فَقَاعِدًا۔ گھومتے جاؤ۔ ورنہ بیٹھ کر۔ ۳۸۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ۳۸۰ : ہم سے عبداللہ ( بن یوسف ) نے بیان کیا، کہا: مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ جَدَّتَهُ ابن ابی طلحہ سے ۔ اسحاق نے حضرت انس بن مالک کے لیے خصوصیت سے تیار کیا تھا۔ آپ نے اس مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله سے روایت کی کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ صلى الله کو کھانے کے لیے بلایا جو کہ انہوں نے آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ لَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قُوْمُوْا فَلِأُصَلَّ لَكُمْ قَالَ أَنَسٌ میں سے کھایا پھر کہا: اُٹھو تا کہ میں تمہارے لئے دعا فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَّنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ کروں۔ حضرت انس کہتے تھے کہ میں اُٹھ کر اپنی طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ ایک چٹائی کی طرف گیا جو کہ کثرت استعمال کی وجہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے سیاہ ہو گئی تھی۔ میں نے اسے پانی سے دھویا۔ وَصَفَفْتُ وَالْيَتِيمَ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوْزُ مِنْ رسول الله کھڑے ہوئے۔ میں نے ایک یتیم وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کے ساتھ آپ کے پیچھے صف باندھی۔ اور وہ بڑھیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ ۔ ہمارے پیچھے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطرافه: ۷۲۷، ۸۶۰، 87۱، 874، 1164۔ ہمیں دو رکعتیں نماز پڑھائی۔ پھر آپ چلے گئے ۔ ل الْحَصِير : کجھور کی شاخوں اور پتوں وغیرہ سے بنی ہوئی چٹائی کے لیے استعمال ہوتا ہے ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۳۳) لفظ تُصلى فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۶۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔