صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 484
البخارى جلد ا - كتاب الصلوة أَعْلَى مِنَ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيْثِ قَالَ اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ کوئی حرج نہیں کہ امام فَقُلْتُ إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ يُسْأَلُ لوگوں سے اونچا ہو۔(علی بن عبداللہ ) کہتے تھے۔میں نے کہا: سفیان بن عیینہ سے اس حدیث کے عَنْ هَذَا كَثِيْرًا فَلَمْ تَسْمَعْهُ مِنْهُ قَالَ لَا۔متعلق بہت پوچھا جاتا تھا۔کیا آپ نے ان سے نہیں سنا؟ کہا: نہیں۔اطرافه: ٤٤٨، ٩١٧، ٢٠٩٤، ٢٥٦٩۔:۳۷۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيْمِ ۳۷۸ : ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُوْنَ قَالَ أَخْبَرَنَا یزید بن ہارون نے ہم سے بیان کیا، کہا: حمید طویل حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ سے گر پڑے۔اور آپ کی پنڈلی یا کندھا چھل گیا۔اور عَنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَتْ سَاقُهُ أَوْ كَتِفُهُ آپ نے ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے وَآلَى مِنْ نِّسَائِهِ شَهْرًا فَجَلَسَ فِي کی قسم کھائی۔آپ اپنے بالا خانہ میں بیٹھ گئے۔اس کی مَشْرُبَةٍ لَّهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعِ { النَّخْلُ} سیڑھی (کھجور کے تنوں کی تھی۔تو آپ کے صحابہ فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُوْدُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ آپ کے پاس آپ کی عیادت کرنے کے لئے آئے تو جَالِسًا وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا آپ نے بیٹھے ہوئے اُن کو نماز پڑھائی اور وہ کھڑے ، جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبَرُوْا ہی رہے۔جب آپ نے اسلام علیکم کہا تو فرمایا: امام تو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوْا وَإِذَا سَجَدَ پس جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب فَاسْجُدُوا وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوْا قِيَامًا رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب سجدہ کرے تو سجدہ وَنَزَلَ لِتِسْع وَعِشْرِيْنَ فَقَالُوْا يَا رَسُولَ کرو اور اگر وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو کھڑے ہوکر اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ نماز پڑھو اور انتیسویں دن آپ اترے تو لوگوں نے کہا: تِسْع وَعِشْرُونَ۔یارسول اللہ! آپ نے تو ایک مہینہ کی قسم کھائی تھی۔آپ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔اطرافه ٦٨٩ ، ۷۳۲، ۷۳۳، ۸۰۵، ۱۱۱٤، ۱۹۱۱، ۲٤٦۹، ٥٢۰۱، ٥٢٧٩، ٦٦٨٤۔لفظ النخل فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفہ ۶۳۲ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔